اسرائیل میں ٹیکنالوجی ورکرز کا عدالتی نظام میں ترمیم کے منصوبے کے خلاف مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل میں ٹیکنالوجی ورکرز نے عدالتی نظام میں ترمیم کے منصوبے کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ سینکڑوں اسرائیلی ہائی ٹیک کارکنوں نے منگل کو تل ابیب میں نظام انصاف کی بحالی کے ایک حکومتی منصوبے کے خلاف مظاہرہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ متنازعہ اقدامات قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچا کر اور جمہوریت کو خطرہ لاحق کرکے ترقی کو نقصان پہنچائیں گے۔ یاد رہے نیتن یاہو کی نئی حکومت نے عدالتی نظام میں ترمیم کا ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کا مقصد ججوں کے اختیارات پر پارلیمنٹیرین کے اختیار کو ترجیح دینا ہے۔

مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا "کوئی جمہوریت نہیں، کوئی اعلیٰ ٹیکنالوجی نہیں" ۔ یہ بینرز تل ابیب کے سارونا سکوائر پر ایک شاپنگ سینٹر کے قریب لٹکائے گئے تھے۔ اے ایف پی کے نامہ نگاروں کے مطابق اور 100 ٹیک کمپنیوں نے اپنے ملازمین سے صبح 11:00 بجے سے لیکر دوپہر تک ایک گھنٹے کے لیے ہڑتال کرنے کا کہا تھا۔ جی ایم ٹی وقت کے مطابق صبح 9 بجے سے 10 بجے تک ہڑتال کی گئی۔

اسرائیل جو خود کو ایک ابھرتے ہوئے ملک کے طور پر پیش کرتا ہے جدید ٹیکنالوجیز میں جدت کا عالمی مرکز ہے اور سائبر ڈیفنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نگرانی کے نظام کے شعبوں میں انتہائی فعال کمپنیوں کے لیے ایک زرخیز زمین رکھتا ہے۔ ہائی ٹیک سیکٹر جو اسرائیل کی 10 فیصد سے زیادہ افرادی قوت کو ملازمت دیتا ہے ملک کی اقتصادی ترقی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اسرائیل انوویشن اتھارٹی کے مطابق 2021 میں اسرائیل کی برآمدات کا 54 فیصد یا 67 بلین ڈالر کا حصہ جدید ٹیکنالوجیز کی بنا پر تھا۔

اختلافی آوازیں

49 سالہ پروگرامر یٹزیک نے کہا کہ اسرائیل کی منافع بخش ہائی ٹیک انڈسٹری صرف اس لیے موجود ہے کہ ہمارا ملک ایک جمہوریت ہے۔ اگر عدالتی ترمیم کامیاب ہو جاتی ہے تو ہائی ٹیک انڈسٹری خطرے میں پڑ جائے گی۔

گیم ڈیولپمنٹ کمپنی کریزی لیبز کے لیے کام کرنے والی 45 سالہ چیگیرنسکی نے کہا کی بورڈ کے پیچھے ہوشیار رہنا، بغیر کچھ کیے بیٹھ کر شکایت کرنا آسان ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہائی ٹیک کارکنوں کے لیے مظاہرہ کیا جائے اور ہر کوئی سڑکوں پر نکلے۔ احتجاج کی قیادت کرنے والی انبال اورباز نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ جمہوریت کے بغیر اسرائیلی ہائی ٹیک ترقی جاری نہیں رہ سکتی ۔ زیادہ تر سرمایہ کاری بیرون ملک سے آتی ہے۔

استثنیٰ شق کیا ہے؟

نئی حکومت میں وزیر انصاف یاریو لیون ججوں کی تقرری کے لیے پارلیمنٹ کو مزید اختیارات دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر کی تجاویز میں ایک "استثنیٰ شق" بھی ہے جو پارلیمنٹ کے ارکان کو سادہ اکثریت سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

اسرائیل میں ججوں کا انتخاب ججوں، وکلاء اور ارکان پارلیمان کی مشترکہ کمیٹی وزارت انصاف کی نگرانی میں کرتی ہے۔ اسرائیل میں سپریم کورٹ کنیسٹ کے منظور کردہ قانون کو اس صورت میں منسوخ بھی کر سکتی ہے اگر وہ غور کے بعد یہ سمجھے کہ یہ بنیادی قوانین سے متصادم ہے۔ حالیہ ترمیم میں شامل "استثنیٰ شق" کی منظوری پارلیمنٹ کو اس قانون کو دوبارہ لاگو کرنے کی اجازت دے گی جسے پہلے ججوں نے مسترد کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں