’شدید سردی میں بہن کو کھو دینے والی ننھی شامی بچی کے آنسو کام آ گئے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

چند روز قبل سوشل میڈیا پرایک شامی بچی کی شدید سردی میں اپنی بہن کی موت اور شدید سردی میں زندگی گذارنے کی تکالیف کی فریاد اس کے کام آ گئی۔

شام میں خانہ جنگی سے جان بچا کر پناہ گزین کیمپ میں رہنے والے خاندان کی ایک کم سن بچی نے حال ہی میں رو رو کر اپنی زبوں حالی کی بیان کی تھی۔ اس کی یہ فریاد وائرل ہو گئی جس پر ترکیہ کے امدادی ادارے ’ہلال احمر‘ کے رضا کاروں نے اسے تلاش کیا۔ شام میں موجود اس مفلوک الحال خاندان کا پتا چلایا اور انہیں موسم سرما کی شدت سے بچاؤ کے لوازمات فراہم کیے۔ بچی اور اس کے خاندان کو گرم کپڑے اور ایندھن بھی فراہم کیا گیا ہے۔

ترک اخبار "ینی شفق" کی ویب گاہ نے ترکیہ کے ہلال احمر کے سربراہ کریم کنیک کے حوالے سے لکھا ہے کہ "ترک ہلال احمر" شامی بچی اور اس کے خاندان تک پہنچنے میں کامیاب رہا اور موسم سرما کی تمام ضروریات اور انہیں ایندھن کی سہولیات فراہم کی ہیں۔

"ترک ہلال احمر" کے صدر نے ٹوئٹر پر ایک نیا ویڈیو کلپ پوسٹ کیا جس میں شامی لڑکی ایک معمولی خیمے کے اندر دیکھی جا سکتی ہے۔ "ہلال احمر" کی ٹیم کی ایک بڑی تعداد بھی لوگوں کو بیگ پیش کرتی دیکھی جا سکتی ہے جس میں سے کچھ تحفے اور سردیوں کے کپڑے شامل ہیں۔

ویڈیو کلپ میں بچی نے ترکیہ کے امدادی ادارے ہلال احمر کا شکریہ ادا کیا۔

بچی کی دل سوز فریاد

حال ہی میں شام کے جھنم زار میں بچوں کی زبوں حالی کے لرزہ خیز واقعات میں ایک تازہ واقعہ ایک ننھی بچی کا سامنے آیا تھا جس کے ٹھنڈے رخساروں پر گرنے والے آنسوؤں نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو میں شام میں سردی کی شدت اور خوراک کی قلت کا شکار بچی نے روتے ہوئے اپنی زبوں حالی بیان کی۔ اس نے کہا کہ میری بہن سردی سے مر گئی مگر ہمیں بچانے اور مدد دینے والا کوئی نہیں۔ یہ کہتے ہوئے وہ بے اختیار رو پڑی اور اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو گیا۔

شامی بچی کی مفلوک الحالی کا ترجمان کلپ سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ ویڈیو میں بچی کی حالت اور کیفیت کو دیکھ کر درد دل رکھنے والی ہر آنکھ اشک بار ہو گئی۔

شام کے مصیبت کدے سے بچی کی یہ فریاد کوئی نہیں۔ یہ ویڈیو خانہ جنگی سے تباہ حال ملک میں انسانیت کی بربادی کی تازہ مثال ہے۔

بچی کو روتے اور یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ "میری بہن سردی سے مر گئی۔ پتہ نہیں کیسےساری دنیا گرم ہے سوائے ہمارے، ہم سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں۔ موسم بہت سرد ہے اور ہم سردی سے مر رہے ہیں"۔

اس نے وضاحت کی کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہتی ہے اور ایندھن کی کمی کا شکار ہے۔ رات کو جب سوتی ہے تو اسے اندازہ نہیں ہوتا کہ اس کے اعضا اس کے ساتھ ہیں یا نہیں کیونکہ اس کے اعضا ٹھنڈ سے اکڑ جاتے ہیں۔

اس نے بتایا کہ اس کی بہن شدید سردی سے مر گئی تھی. اس کے اہل خانہ نے "ہیٹر" آن کیا اور شدید سردی سے خود کو گرم کرنے کے لیے اس کے گرد جمع ہو گئے۔

لڑکی نے گزشتہ ایک ویڈیو کلپ میں سردی کی شکایت کی تھی، جس میں اس نے اپنی بہن کی شدید سردی کی وجہ سے موت کا اعلان کیا تھا جب وہ رو رہی تھی۔

اس کلپ کے پھیلنے سے بچے کے لیے ہمدردی کی ایک مہم شروع ہوئی، جس نے "ترک ریڈ کریسنٹ" کو بالآخر اس تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں