پاسداران انقلاب کا یورپ کو قرآن کی بے حرمتی پر سزا دینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ نے یورپ میں اسلام کی مقدس کتاب قرآن کی بے حرمتی کرنے والوں کو سزا دینے کی دھمکی دی ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’ایرنا‘‘ کو دیے گیے بیان میں میجر جنرل حسین سلامی نے کہا ہے کہ "ہم اسلام اور قرآن کے محافظ ہیں … ہم قرآن کو جلانے والوں سے کہتے ہیں کہ یہ آگ تمہارے جسموں کو اپنی لپیٹ میں لے کر لاشوں میں بدل دے گی۔"

انہوں نے کہا کہ "آج سے چھپ کر رہو اور ہر رات ڈراؤنے خواب دیکھو، مسلمان تمہیں چھوڑیں گے نہیں چاہے دہائیاں گزر جائیں۔"

مغرب میں قران کی بے حرمتی کے دو واقعات میں گذشتہ ماہ ڈنمارک کے ایک انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان نے سٹاک ہوم میں ترکیہ کے سفارت خانے کے باہر قرآن مجید کا نسخہ نذر آتش کر دیا تھا۔ دوسرے واقعے میں، کچھ دن بعد، انتہائی دائیں بازو کی پیگیڈا تحریک سے تعلق رکھنے والےایک ڈچ رہنما نے ڈچ پارلیمنٹ کے قریب قرآن کے صفحات پھاڑ ڈالے تھے۔

جنرل سلامی نے ناول نگار سلمان رشدی کے خلاف اگست میں ہونے والے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کی بے حرمتی کرنے والوں کو ایسے ہی انجام کی توقع کرنی چاہیے۔

انہوں نے گذشتہ ماہ فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو کے عملے کے بارے میں بھی یہی حوالہ دیا تھا جب میگزین نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے کارٹون شائع کیے جنہیں ایران میں "توہین آمیز" حرکت قرار دیا گیا تھا۔

سلمان رشدی پر گذشتہ سال 12 اگست کو اس وقت چاقو سے حملہ کیا گیا جب وہ مغربی نیویارک میں ایک تقریب سے خطاب کرنے کے لیے پہنچے تھے۔ 1988 میں شائع ہونے والے اپنے چوتھے ناول دی سیٹنک ورسز کے لیے انھیں طویل عرصے سے قتل کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔

1989 میں اس وقت کے ایران کے سپریم لیڈر روح اللہ خمینی نے ایک فتویٰ دیا تھا جس میں رشدی اور اس کتاب کی اشاعت میں ملوث کسی بھی شخص کو توہین مذہب کے الزام میں قتل کرنے کا کہا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں