اردن میں دو حقیقی بھائی بھیڑ بکریوں کے جھگڑے پر قتل: پولیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنوبی اردن کی طفیلہ گورنری میں ایک ہفتہ قبل پراسرار طور پر قتل ہونے والے دو حقیقی بھائیوں کے قتل کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات میں پولیس نے کہا ہے کہ دونوں بھائیوں کو بھیڑوں کی چراگاہ کے جھگڑے میں جان سے مارا گیا۔ پولیس نے قاتل کو گرفتار کر کے اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

اردنی پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے میڈیا ترجمان کرنل عامر السرطاوی نے کہا کہ دونوں بھائیوں کے قتل کے معاملے کی تفتیشی ٹیم نے مسلسل محنت اور کوشش کے بعد اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہیں اور قتل کے محرکات سے پردہ اٹھانے کے ساتھ مجرم کو گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کر لیا ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ تک پہنچنے والی تفصیلات میں طفیلہ پولیس ڈائریکٹوریٹ کو چند روز قبل ایک رپورٹ موصول ہوئی تھی کہ دو بھائیوں کی لاشیں ایک خالی جگہ سے ملیں ہیں۔ ان کی لاشوں میں گولیوں کے نشانات تھے۔

جرم کی وجہ چراگاہ

میڈیا ترجمان نے تصدیق کی کہ تفتیشی ٹیم کی جانب سے جرم کے لمحے سے مسلسل کام اور کوششوں اور جائے وقوعہ سے معلومات اکٹھی کرنے کے دوران مشتبہ ملزم کی نشاندہی کی اور اس کی شناخت کے بعد اسے گرفتار کر لیا ہے۔

میڈیا ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مشتبہ شخص سے پوچھ گچھ کے دوران اس نے اعتراف کیا کہ اس نے دونوں بھائیوں کو بھیڑوں کی چراگاہ کے تنازع پر گولیاں ماریں جس کے نتیجے میں دونوں جان سے گئے۔

پولیس نے جرم میں استعمال ہونے والا اسلحہ ضبط کر لیا گیا اور مقدمہ گرینڈ کریمنل کورٹ کے پبلک پراسیکیوٹر کے پاس بھیج دیا گیا۔ عدالت نے ملزم کو پندرہ دن کے لیے جسمانی ریماند پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ 30 سالہ عمر اور اس کے 20 سالہ چھوٹا بھائی ایمن کو گذشتہ جمعہ کی صبح 8 بجے چراگاہ پہنچے کے تھوڑی دیر بعد نامعلوم افراد نے قتل کر دیا تھا۔ اس دن بھیڑیں اکیلی واپس آئیں اور ان کے مالکان واپس نہیں لوٹے جس پر گھر والوں کو پریشانی ہوئی۔ انہوں نے ان کی تلاش کی تو ایک چراگاہ میں ان کی لاشیں ملیں۔ اس واقعے کی خبر پولیس کو دی گئی جس نے فوری تحقیقات شروع کر دی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں