امریکہ کی ایرانی ڈرون کمپنی سے وابستہ افراد پر پابندیاں عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا کہ امریکہ نے جمعہ کے روز ڈرون بنانے والی ایران کی پیراوار پارس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر یہ کہتے ہوئے پابندیاں عائد کر دی ہیں کہ روس یوکرین میں اہم انفراسٹرکچر پر حملہ کرنے کے لیے ایرانی ڈرون کا استعمال کرتا ہے۔ محکمہ نے ایک بیان میں کہا کہ محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے پیرا پارس کے آٹھ سینئر ایگزیکٹوز کو پابندیوں کا ہدف بنایا ہے۔

امریکہ اور یورپی یونین نے اس سے قبل بھی ایرانی پاسداران انقلاب کے لیے ڈرون بنانے والی کمپنی پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ محکمہ خزانہ کے اعلیٰ پابندیوں کے اہلکار برائن نیلسن نے بتایا ہے کہ ایرانی ادارے ایرانی پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج کے لیے ڈرون تیار کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایران وسیع طور پر یوکرین میں اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے روسی جنگی کارروائیوں کو ڈرون فراہم کر رہا ہے۔

منگل کے روز امریکہ نے سات ایرانی اداروں پر ڈرون تیار کرنے کے لیے نئی تجارتی پابندیاں عائد کی تھیں ۔ یہ وہ ڈرونز ہیں جنہیں روس یوکرین پر حملے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ان کمپنیوں اور دیگر اداروں کو ایکسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا۔ یہ وہ ادارے ہیں جو امریکی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

فروری 2022 میں روس نے یوکرین کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ اس وقت سے امریکہ اور 30 سے زیادہ دیگر ممالک نے روس کی دفاعی ضروریات تک رسائی کو محدود کرکے اس کے فوجی اور دفاعی صنعتی اڈے کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں