ایران میں مظاہرین کو بینائی سے محروم کیا جا رہا ہے: آئی ایچ آر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

انسانی حقوق کے ایک گروپ نے بتایا ہے کہ ایران کی سکیورٹی فورسز مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں منظم طریقے سے مظاہرین کی آنکھوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

ناروے میں مقیم گروپ ایران ہیومن رائٹس نے انکشاف کیا ہے کہ ابتدائی اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ متاثرین میں نوجوان خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔

اس ہفتے کے شروع میں تہران کے ایک اخبار نے ایک اعلی پولیس اہلکار سے پوچھا کہ کیا سکیورٹی فورسز مظاہرین کی آنکھوں اور حساس حصوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ تو انہوں نے اس بات کی تردید کی۔

تاہم آئی ایچ آر نے کہا ہے کہ مظاہرین کو سر اور چہرے پر گولیاں ماری گئی تھیں، جس کے نتیجے میں "بہت سے، جن میں بڑی تعداد نوجوان خواتین کی ہے، نابینا ہو گئے تھے۔"

آئی ایچ آر نے کہا کہ ستمبر سے ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں 22 افراد ایک آنکھ سے نابینا ہوئے ہیں، جن میں سے نو خواتین ہیں۔

بینائی سے محروم ہونے والا سب سے کم عمر ایک 6 سالہ بچہ بونیتا کیانی فلاورجانی ہے- اسے اس وقت گولی لگی جب وہ اصفہان میں اپنے دادا کی بالکونی میں کھڑا تھا۔

ایک اور ہائی پروفائل کیس میں ایران کی قومی تیر انداز ٹیم کے رکن کوثر خوشنودی کیا کو دسمبر میں کرمانشاہ شہر میں ایک احتجاج کے بعد ایک آنکھ کی بینائی سے محروم کر دیا گیا تھا۔

"ہمارے پاس ابھی تک کافی ڈیٹا نہیں ہے، لیکن یہ تاثر ہے کہ جن کی آنکھوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ان میں نوجوان لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، آئی ایچ آر کے ڈائریکٹر محمود امیری مقدم نے کہا۔

اس سوال پر کہ کیا سیکورٹی فورسز آنکھوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، سپیشل پولیس کے کمانڈر حسن کرامی نے ہمشہری اخبار کو بتایا کہ "احتجاج کرنے والی آبادی کو نقصان نہ پہنچانا" پولیس فورسز کی ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے خصوصی پولیس دستوں کی اہلیت پر اتنا بھروسہ ہے کہ میں ہر اس شخص کو انعام پیش کروں گا جو یہ ثابت کرے گا کہ ہمارے عملے کی غلطی کے نتیجے میں کسی کی ہلاکت ہوئی ہے۔

آئی ایچ آر کے مطابق، ستمبر میں 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے دوران سکیورٹی فورسز نے کم از کم 488 افراد کو ہلاک کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں