شناخت ختم اور جرمانہ: ایران میں بے پردہ خواتین کے لیے نئی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے پردہ نہ کرنے والی خواتین پر نئی سزائیں نافذ کردی ہیں۔ نئی سزاؤں کے تحت گھر سے باہر نکلتے ہوئے حجاب نہ کرنے والی خواتین کے لیے جرمانہ ادا کرنے تک تمام سماجی خدمات سے محروم کردیا جائے گا۔

خواتین پر حجاب اور دیگر پابندیوں کے خلاف ایران میں وسط ستمبر سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ ساڑھے چار ماہ سے مظاہرے جاری ہیں اور ان مظاہروں سے ایرانی حکومت کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم مہینوں سے جاری اس احتجاج کے باوجود حکومت کے رویہ میں تبدیلی نہیں آئی ۔ اب ایرانی پارلیمنٹ کی عدالتی کمیٹی کے سربراہ موسی غضنفر عبادی نے اعلان کیا ہے کہ حجاب نہ پہننے والوں کو جلد ہی ایک ٹیکسٹ پیغام بھیجا جائے گا۔

سماجی خدمات کی فراہمی سے انکار

ایرانی اہلکار نے مزید کہا کہ اگلے مرحلے میں اگر لڑکی اپنے موقف پر اصرار کرتی ہے تو اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا اور جرمانے کی ادائیگی تک اس کے قومی شناختی کارڈ پر پابندی عائد کردی جائے گی۔ جب تک وہ جرمانہ ادا نہیں کرتی اور حجاب پہننے کا عہد نہیں کرتی اسے تمام سماجی خدمات سے محروم رکھا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کاروں میں ہیڈ سکارف نہ پہننے والوں کی نگرانی کا قانون پہلے کی طرح ایجنڈے میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حجاب نہ کرنے والی خواتین کو ایس ایم ایس باربار بھیجے جا رہے ہیں۔

انہوں نے جلد ہی ایک نئے مسودہ قانون کا بھی اعلان کردیا جس میں یہ واضح کیا جائے گا کہ کس کو سڑکوں اور دیگر مقامات پر حجاب نہیں پہننا چاہیے۔ حجاب نہ کرنے والوں کا پتہ "مانیٹرنگ سسٹم" کے ذریعے لگایا جائے گا اور آخر کار اسے سماجی خدمات سے محروم کردیا جائے گا۔

اس امکان کے جواب میں کہ اس قانون سے ملک میں اپوزیشن کی تحریک میں اضافہ ہو گا اہلکار نے دعویٰ کیا کہ گاڑی میں سیٹ بیلٹ پہننے کے پابندی کے قانون کو تو مسترد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حجاب کے قانون کو بھی لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے ایرانی حکام نے کچھ عرصہ قبل خواتین شہریوں کو حجاب کے حوالے سے ٹیکسٹ پیغامات بھیجنے کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا تھا، جس کے بعد اس کی منسوخی کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ مزید کشیدگی کو روکا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں