خامنہ ای کی تصاویر نے انسانی حقوق کارکنوں کو مشتعل کر دیا

ایرانی سپریم لیڈر سینکڑوں باحجاب لڑکیوں کی نماز میں امامت کررہے، بچوں کے دماغ صاف کئے جارہے: ناقد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں لڑکیاں سکیورٹی اہلکاروں اور پولیس کی نگرانی میں رہتی ہیں، ایسا ان کے کپڑوں کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے یا انکے رویہ کی بنا پر بھی ۔ ان خواتین میں سے درجنوں جیلوں میں ہیں۔ خاص طور پر وسط ستمبر میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی موت سے شروع ہونے والے مظاہروں کے آغاز کے بعد سے گرفتاریوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ایرانی رہنما نے ایک پارٹی کو سپانسر کیا ہے جس میں سیکڑوں لڑکیاں شامل ہیں جن کی عمریں 13 سال سے زیادہ نہیں ہیں ، یہ لڑکیاں حجاب پہننے کا جشن منا رہی ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے دفتر نے جمعہ کے روز تصاویر اور ویڈیو جاری کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دارالحکومت تہران خامنہ ای نماز میں ان بچیوں کی امامت بھی کر ا رہے ہیں۔

تاہم ان تصاویر کو ملک میں خواتین کے حقوق کی حمایت کرنے والے متعدد ایرانی کارکنوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تنقید کرنے والوں کی قیادت حزب اختلاف کی خاتون کارکن مسیح علی نجاد کر ر ہی ہیں۔ وہ برسوں سے ایران سے باہر مقیم ہیں۔

مسیح علی نجاد جنہیں حال ہی میں قاتلانہ حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا نے کہا یہ مجھے اپنے بچپن کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا ایرانی حکومت نے ملک میں خواتین کو سات سال کی عمر سے یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہوں نے آزاد دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا یہ ’’ بچوں کے ساتھ زیادتی‘‘ کی جارہی ہے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم دیگر کارکنوں نے کہا ان مناظر کو پیش کرکے حکومت خامنہ ای کو ایک مقبول رہنما کے طور پر ظاہر کرنے کے لیے بے چین ہے۔ ان مناظر کو ایک ایسے وقت میں سامنے لایا جا رہا ہے جب ایران میں بڑی تعداد میں نوجوان خواتین سڑکوں پر موجود ہیں اور ان کی تصاویر کو پھاڑ رہی اور اظہار کر رہی ہیں کہ ملک میں جبر کا راج ہے۔

مہسا امینی نے حجاب نہ کرنے پر گرفتار ہوکر 16 ستمبر کو پولیس کی حراست میں موت کو گلے لگایا تو پورے ایران میں احتجاجی تحریک شروع ہوگئی۔ ملک بھر میں بڑی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل پر خواتین کے لباس کے سخت قوانین کے خلاف احتجاج کیا۔ ان احتجاجی مظاہرین کو روکنے کے لیے ایرانی حکومت نے پر تشدد کارروائیاں شروع کیں اور 400 سے زاید مظاہرین کو فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ قتل کے گئے ا حتجاجی کارکنوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں