سعودی آرکیٹیکچر اور ڈیزائن آرٹس اتھارٹی کا "ڈیزناتھون" چیلنج اختتام پذیر، 30 ٹیمو

500 سے زائد شرکا نے حصہ لیا، 3 دنوں کے دوران صحت مند زندگی کے لیے ڈیزائن پر مبنی بہت سی تخلیقات پیش کیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اتھارٹی فار آرکیٹیکچر اینڈ ڈیزائن کے "ڈیزائناتھون" چیلنج کے پہلے ایڈیشن کا اختتام ہوگیا۔ یہ ریاض میں منعقد ہوا تھا۔ چیلنج کے تین ٹریکس کے فاتحین کو تاج پہنایا گیا۔

اس "ڈیزائناتھون" میں 500 سے زیادہ شرکاء نے حصہ لیا جنہوں نے 3 دنوں کے دوران صحت مند زندگی کے لیے ڈیزائن، سماجی اثرات کے لیے ڈیزائن اور پائیداری کے لیے ڈیزائن کے 3 ٹریکس کے اندر بہت سی تخلیقات پیش کیں۔ ان کا مقصد ڈیزائن میں اختراعی حل تیار کرنا تھا۔ اس کا مقصد عالمی چیلنجوں کے حل کی تلاش اور شراکتی ڈیزائن کے تصور کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنا بھی تھا۔

ان شرکا میں سے 30 ٹیموں نے فائنل مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا اور اپنے ڈیزائن جیوری کو پیش کیے۔ جس نے تین ٹریکس میں جیتنے والوں کا انتخاب کیا۔

پبلک ہیلتھ کے لیے ڈیزائن ٹریک میں سبیل کی ٹیم نے پہلی پوزیشن حاصل کی اور اسے ایک لاکھ ریال کا انعام دیا گیا، دوسرے نمبر پر آنے والی برسات کی ٹیم کو 50 ہزار ریال سے نوازا گیا۔ مرحلہ وار ٹیم نے تیسرا نمبر حاصل کیا اور 25 ہزار ریال حاصل کئے۔

سماجی اثرات کے حصول کے لیے ڈیزائن ٹریک میں پہلا مقام ڈریم ٹیم نے حاصل کیا جسے ایک لاکھ ریال کا انعام دیا گیا۔ دوسری پوزیشن رینز ٹیم نے حاصل کی اور 50 ہزار ریال کا انعام حاصل کرلیا، تیسری پوزیشن پر ہائیک ٹیم آئی اور 25 ہزار ریال کا مستحق قرار پائی۔

ڈیزائن فار سسٹین ایبلٹی ٹریک میں واسم کی ٹیم ایک لاکھ ریال، ٹیبل مول کی ٹیم 50 ہزار ریال اور ویسٹ نو مور کی ٹیم نے 25 ہزار ریال جیت لیے۔

اتھارٹی فار آرکیٹیکچر اینڈ ڈیزائن کے سی ای او ڈاکٹر سمیہ السلیمان نے کہا کہ 500 سے زائد شرکا نے چیلنجز کو تلاش کرکے شعبے کی ترقی میں براہ راست تعاون کیا ہے۔ پھر ایک ٹیم تشکیل دی جو مختلف پس منظر کو یکجا کرتی ہے۔ یہ چیز شراکت دار ڈیزائن کے تصور کو بڑھاتی ہے۔ انہوں نے کہا سوچ کا طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے ڈیزائن تخلیق کرتے ہوئے ان چیلنجز کو حل کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں