مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کی سرگرمیوں میں غیرمعمولی اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حالیہ دنوں میں فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کی تحریک میں غیرمعمولی تیزی آئی ہے۔یہودی آباد کاروں کا خیال ہے کہ موجودہ سخت گیرحکومت کے دور میں فلسطینی علاقوں میں ماضی سے کہیں زیادہ یہودی آباد کاری میں اضافے کا بہترین موقع موجود ہے۔ بنجمن نیتن یاھو کی قیادت میں قائم کی جانے والی نئی اسرائیلی حکومت میں کئی سخت گیر وزرا موجود ہیں جو فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری میں اضافے کے سخت حامی ہیں۔

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف آباد کاروں کے تشدد کی ایک شدید لہر نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ اضافہ تقریباً فلسطینی شہروں اور قصبوں پراسرائیلی فوجی حملوں کے ایک ماہ بعد آیا ہے جن میں کم از کم 26 فلسطینی مارے گئے۔

اقوام متحدہ کے حکام نے 26 جنوری سے 30 جنوری تک آباد کاروں کی قیادت میں کم از کم 22 حملوں اور توڑ پھوڑ کے واقعات کا اندراج کیا جب کہ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ حقیقی تعداد تقریباً سات گنا زیادہ ہے۔

اخبار کے مطابق اقوام متحدہ کے حکام نے جنوری کے مہینے کے دوران آباد کاروں کے 70 سے زیادہ حملوں کی نشاندہی کی جو کہ ایک ایسی شرح ہے جو اگر سال کے آخر تک جاری رہتی ہے تو کم از کم نصف دہائی میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز ہوگی۔

نیویارک ٹائمز نے بتایا کہ اگرچہ سنہ1967ء میں اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضہ کرنے اور اس کے بعد سینکڑوں بستیوں کی تعمیر کے بعد سے تشدد معمول کی بات ہے لیکن اسرائیل میں موجودہ شدت پسند حکومت کے قیام کے بعد فلسطینی علاقوں میں تشدد کے واقعات میں اور بھی اضافہ متوقع ہے۔ موجودہ اسرائیلی حکومت سے انتہا پسند یہودی آباد کاروں کو فلسطینیوں کی جان ومال پرحملوں اور تشدد کا نیا موقع ملا ہے۔

اخبار کے مطابق گذشتہ ہفتے تشدد کی لہر نے صورتحال کے مزید بگڑنے کی حد کو اجاگر کیا کیونکہ شمالی مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے ایک چھاپے میں 10 فلسطینی شہید ہو گئے۔ اس کے ایک دن بعد یروشلم میں یہودی عبادت گاہ کے باہرایک فلسطینی نے 7 اسرائیلیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ .

اس کے بعد فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے حملوں کی ایک لہر شروع ہوئی۔ آباد کاروں نے فلسطینیوں کی دکانوں، گھروں اور گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی۔

غرب اردن میں یہودی آباد کاری کی سرگرمیوں میں سرگرم یہودی نافیہ شنڈلر نے کہا کہ ’’اب میں توقع کرتا ہوں کہ معاملات مختلف ہوں گے‘‘۔

نیویارک ٹائمز کے مطابقس شنڈلر جیسے آباد کاروں کو امید ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں مزید اسرائیلی بستیاں تعمیر کریں گے، جو کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہے۔ فلسطینیوں کو امید ہے کہ وہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا مرکز ہوں گے۔

دریں اثنا فلسطینی بستیوں کی توسیع کو خاص طور پر فلسطینیوں پر حملوں میں اضافے کو خوف اور تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔

امریکی اخبار نے کہا ہےکہ پچھلی اسرائیلی حکومتوں اور ان کے جرنیلوں نے سیکڑوں بستیوں کی تعمیر اور حفاظت کی۔ وہ بعض اوقات اسرائیلی حکومت کی اجازت کے بغیر تعمیرات کرتے تھے۔

لیکن اب بستیوں کے لیے اسرائیلی حکومت کے وزراء کی عوامی حمایت اور آباد کاروں کی تحریک کے بڑھتے ہوئے عزائم، تشدد میں حالیہ اضافے کے ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے میں نیا طوفان اٹھانے کے خدشات کو بڑھارہے ہیں۔

آباد کار تشدد کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک اقلیت ایسا کرتی ہے

نیویارک ٹائمز کے مطابق گذشتہ سال مقبوضہ مغربی کنارے میں 170 سے زائد فلسطینی مارے جا چکےجن میں سے زیادہ تر اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ یہ ہلاکتیں حالیہ ایک دھائی کے دوران اس عرصے میں کم وقت میں سب سےزیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں