سعودی عرب میں نبطی دور کی حنوط شدہ خاتون کا چہرہ بحال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے شاہی کمیشن برائے العلا گورنری میں آثار قدیمہ کے شعبے کے ماہرین نے نبطی دور سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے چہرے کے ڈھانچے کی بحالی اور ڈیجیٹل تعمیر نو کا کام مکمل کر لیا ہے۔ تاریخی ریکارڈ میں خاتون کا نام "ھنات" بتا جاتا ہے۔ خاتون کا یہ حنوط شدہ جسم سعودی عرب کے"الحجر" شہر میں دریافت کیا گیا تھا۔ ’الحجر‘ کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت’یونیسکو‘ نے 15 سال قبل عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرلیا تھا۔

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ خاتون کی موت پہلی صدی قبل مسیح میں ہوئی تھی اور اس کا تقریباً مکمل جسم ایک مقبرے میں رکھا گیا تھا جو 2008ء میں ’’الحجر‘‘ کے اندر سے دریافت ہوا تھا اور دو ہزار سال سے زائد عرصے تک باقی رہا۔

نبطی تہذیب کے متعدد ماہرین نے سائنسی حدود طے کرنے اور اس کے چہرے کی مرمت کے لیے درست ہدایات اور تفصیلی وضاحت دینے کے لیے ھنات کے کپڑوں اور زیورات کی تصویروں کے ساتھ اس کے چہرے کی پروفائلنگ کی۔ ماہرین کے اس گروپ کو ایک پروڈکشن ٹیم کے ساتھ شامل کیا گیا جس میں بشریات کا تجربہ تھا۔ خاتون کے چہرے کی بحالی میں شامل ماہرین میں تعمیر نو اور جسمانی ماڈل بنانے والے ماہرین شامل ہیں۔ صدیوں پرانے اس چہرے کی تاریخی شہر الحجر میں وزیٹر سینٹر میں نمائش کی جائے گی۔

تاریخی ورثے کی نمائشوں کے انعقاد کی ماہر ڈاکٹر ہیلن میک گاؤران نے کہا کہ "ہنات" کی خصوصیات کو بحال کرنے کے عمل نے سائنسی درستگی اور عصری فنکارانہ ترقی کو ملا کر نبطی تہذیب کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا ایک نیا راستہ کھولا ہے۔

رائل کمیشن فار العلا گورنری میں داستانی تجربات کی ماہر لیلیٰ چابمان نے اشارہ کیا کہ زائرین کو "ھنات" کو دیکھنے کا ایک تاریخی تجربہ ملے گا۔ یہ خاتون "الحجر" میں پرورش پائی اور رہائش پذیر ہوئی۔ اس سے العلا گورنری کی تاریخ میں ایک اہم مرحلے کی تاریخ کا پتا چلتا ہے اور اس دور میں وہاں پر بسنے والی نبطی تہذیب کے بارے میں جان کاری کا موقع ملتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں