مصری صدرالسیسی کابشارالاسد کوپہلا فون؛شام میں زلزلہ زدگان کے لیے مددکی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصرکے صدرعبدالفتاح السیسی نے منگل کے روز شامی ہم منصب بشارالاسد سے پہلی مرتبہ فون پر گفتگو کی ہے اورانھیں تباہ کن زلزلے کے بعد مدد کی پیش کش کی ہے۔

مصری صدر کے ترجمان احمد فہمی نے بتایا ہے کہ السیسی نے شام اور ہمسایہ ملک ترکیہ میں پیر کو علی الصباح آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر’’دلی تعزیت کا اظہار‘‘کیا ہے۔اس زلزلے سے دونوں ملکوں میں 5،000 سے زیادہ ہلاک ہوئے ہیں۔

شام کے سرکاری میڈیا اورامدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملک بھرمیں زلزلے سے 1600 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں اور3600 سے زیادہ افرادزخمی ہوئے ہیں۔

صدرالسیسی نے اس قدرتی آفت میں شام اوراس کے برادر عوام کے ساتھ مصر کی جانب سے اظہارِ یک جہتی کیا ہے۔انھوں نے مصری حکام کو شام کو ہر ممکن مدد مہیا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی ساناکاکہنا ہے کہ صدربشارالاسدنے اس مؤقف پرمصر کا شکریہ ادا کیا جو دونوں برادرممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

ترکیہ اور شام میں گذشتہ روز تباہ کن زلزلے میں انسانی جانوں کے ضیاع پردسیوں ممالک نے تعزیت کا اظہار کیا ہے اوردونوں ممالک کوانسانی اورمالی امداد کی پیش کش کی ہے۔

مصری صدر سے قبل وزیرخارجہ سامح شکری نے پیر کے روز شامی ہم منصب سے فون پر بات چیت کی اوراور قاہرہ کی جانب سے’’ہنگامی انسانی امداد‘‘ دینے کا وعدہ کیا تھا۔

مصرکے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ 2014 میں عبدالفتاح السیسی کے صدارتی منصب سنبھالنے کے بعد دونوں ملکوں کے صدورکے درمیان فون پریہ پہلا رابطہ ہے۔ تاہم شام کی 12 سالہ جنگ کے دوران میں دونوں ممالک نے تعلقات برقرار رکھے ہیں۔

شام میں تنازع 2011 میں عرب بہارکی بغاوتوں کے دوران میں مظاہروں سے شروع ہوا تھا۔عرب بہاریہ تحریک نےمصر میں سابق مطلق العنان صدرحسنی مبارک کا تختہ الٹ دیا تھا۔اسی سال شام کو عرب لیگ سے معطل کردیا گیا تھا۔

شام کے بارے میں مصر کے سرکاری مؤقف میں بحران کے’سیاسی حل‘ پرزوردیا گیا ہے اورخود صدر بشارالاسد کی قسمت کے بارے میں بات کرنے سے گریزکیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں