جنگ سے بچتا ہوا فلسطینی خاندان ترکیہ زلزلے میں لقمہ اجل بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بارہ سال قبل فلسطین سے بہتر مستقبل کی آس میں ترکیہ آنے والا خاندان زلزلے میں لقمہ اجل بن گیا۔

عبدالکریم ابو جلہوم فلسطینی علاقے غزہ میں جاری جنگ اور غربت سے فرار حاصل کر کے اپنے خاندان سمیت ترکیہ آ بسے تھے مگر پیر کو آنے والے تباہ کن زلزلے میں یہ پورا لقمہ اجل بن گیا۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ ابو جلہوم، ان کی اہلیہ فاطمہ اور ان کے چار بچے ان 70 فلسطینیوں میں شامل ہیں جو زلزلے میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد 12,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

غزہ کی پٹی کے شمالی شہر بیت لاہیا میں ان کے 43 سالہ بھائی رمزی نے روئٹرز کو بتایا کہ "میرا بھائی غزہ میں جنگوں اور ناکہ بندیوں سے دور بہتر زندگی کی تلاش کے لیے ترکی گیا تھا مگر اب یہ پورا خاندان صفحہ ہستی سے مٹ گیا ہے۔

ترکیہ آنے سے قبل ابو جلہوم غزہ میں ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے لیکن بڑھتے ہوئے خاندان کی کفالت کے پیش نظر وہ 2010 میں ترکیہ چلے گئے۔ جہاں انہوں نے انطاکیہ میں لکڑی کے کارخانے میں کام کرنا شروع کیا اور اپنے بیوی بچوں کو بھی ترکیہ لے آئے۔

انطاکیہ میں ان کے ساتھ 50 سالہ والد، ان کی بیوی فاطمہ( 33 سالہ) اور ان کے بچوں، نورا ( 16 سالہ ) ، براء (11 سالہ) ، کنزی (9 سالہ) اور 3 سالہ محمد، جو ترکی میں پیدا ہوئے تھے، کے لیے زندگی امید افزا تھی۔

ان کے خاندان کے مطابق، چھ ماہ قبل وہ اس نئے اپارٹمنٹ میں منتقل ہوئے تھے۔

زلزلے کے بعد کئی گھنٹوں تک ان کے خاندان نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ ہر اس شخص سے پوچھا جو کوئی بھی معلومات پیش کر سکتا تھا۔

تاہم منگل کے روز انہوں نے ایک تصویر میں ملبے میں دبے ، بے جان ابو جلہوم اور ان کے خاندان کو پہچان لیا۔

تصویر میں ابو جلہوم اپنے بچوں کو گلے لگائے نظر آ رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ وہ انہیں گرتی عمارت سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ترکی میں کتنے فلسطینی رہتے ہیں اس کے بارے میں درست اعداد و شمار نہیں ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں جنگ اور معاشی بدحالی کے ستائے بہت سے لوگ، خاص طور پر غزہ کے گنجان آباد علاقے سے نقل مکانی کر کے ترکی آئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی انروا کا اندازہ ہے کہ شام میں تقریباً 438,000 فلسطینی پناہ گزین مقیم ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی، جس کا مقبوضہ مغربی کنارے میں محدود کنٹرول ہے، نے متاثرہ علاقوں میں امدادی مشن بھیجا ہے۔

بیت لاھیا میں ان کے آبائی گھر میں، ابو جلہوم کی سوگوار والدہ دعا گو ہیں کہ ان کے بچوں کی لاشیں تدفین کے لیے فلسطین آ جائیں۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا "میں نے 12 سال سے اپنے بیٹے یا اس کے بچوں کو نہیں دیکھا، میں اپنے بچوں کو آخری بار دیکھنا چاہتی ہوں ، انہیں الوداع کرنا چاہتی ہوں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں