اسرائیل نسل پرست ریاست ہے: میئر بارسلونا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بارسلونا کے میئر نے اسرائیل کے ساتھ اپنے شہر کے ادارہ جاتی تعلقات منقطع کر دیے ہیں، اور اس پر "فلسطینی عوام کے خلاف نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) کا " کا الزام لگایا ہے۔

ایک اخباری بیان میں میئر ادا کولاؤ نے اعلان کیا کہ وہ تل ابیب کے ساتھ 25 سال پرانا جڑواں شہروں کا معاہدہ عارضی طور پر معطل کر رہی ہیں۔

میئر نے واضح کہ یہ فیصلہ بارسلونا اور اسرائیل کے درمیان ادارہ جاتی تعلقات کو متاثر کرتا ہے، لیکن اس میں اس کے رہائشی شامل نہیں ہیں۔

تاہم اسرائیل نے الزامات کو رد کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور یہود دشمنی قرار دیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو لکھے گئے خط میں میئر کولاؤ نے کہا کہ یہ اقدام درجنوں مقامی گروپوں اور ہزاروں کارکنوں کی فلسطین کی حمایت میں مہم کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے متعدد اسرائیلی پالیسیوں کا حوالہ دیا، جن میں مغربی کنارے پر 55 سالوں سے قبضہ، مشرقی یروشلم کا الحاق اور مستقبل کی ریاست کے لیے فلسطینیوں کی زمینوں پر اسرائیلی بستیوں کی تعمیر شامل ہے۔

انہوں نے لکھا، "بحیرہ روم کے شہر بارسلونا کی میئر اور انسانی حقوق کی محافظ کے طور پر، میں فلسطینی آبادی کے بنیادی حقوق کی منظم خلاف ورزی سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔"

"دوہرے معیار کی پالیسی اور ان خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کرنا ایک سنگین غلطی ہو گی جو کئی دہائیوں سے بین الاقوامی اداروں کے ذریعے تصدیق شدہ ہیں۔"

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں - ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اسرائیل کی بتسیلم- سمیت انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں اسرائیل پر ملک کے اندر اور مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف نسل امتیاز کا الزام لگاتی رہی ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا اثر علامتی طور پر اہم ہے۔کیونکہ بارسلونا ایک مشہور سیاحتی مقام اور دنیا کے مشہور فٹ بال کلبوں میں سے ایک ہے، اس سے اسرائیل کے ناقدین کی فہرست میں اضافہ متوقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں