امدادی سامان سے لدے 100 ٹرک شام کی ام جلود سرحدی راہداری پر پھنس گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شمالی شام کے شہر منبج میں ام جلود گذرگاہ کی بندش کے باعث کم از کم 100 امدادی ٹرک پھنسے ہوئے ہیں۔ العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق ان ٹرکوں پر زلزلہ متاثرین کے لیے ایندھن، ادویات اور دیگر ضروری سامان موجود ہے۔

بشار الاسد کے سیاسی مخالفین کے زیر نگین علاقوں اور شام کی سرکاری فورسز کی خودمختار انتظامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں کو تقسیم کرنے والی کراسنگ ام جلود پر پھنسے ٹرک ڈرائیوروں نے کہا ’’کہ یہ ٹرک متاثرہ علاقوں میں داخل ہونے کے لیے دوسرے فریق کی منظوری کے منتظر ہیں۔‘‘

دوسری طرف انسانی حقوق کے حلقوں نے شامی حکام پر امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے اور انسانی بحران پر سیاست کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

ادھر العربیہ کے نامہ نگار نے اپنی تازہ ٹی وی رپورٹ میں بتایا ہے ’’کہ اقوام متحدہ کا امدادی قافلہ 10 ٹرکوں پر مشتمل باب الھویٰ کراسنگ سے شامی اپوزیشن کے علاقوں میں داخل ہوا ہے۔‘‘

گذشتہ چند دنوں کے دوران بین الاقوامی تنظیموں نے امدادی سامان کے داخلے میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تاہم شامی حکومت کے زیر انتظام علاقوں کی طرف سے آنے والی امدادی کھیپ کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ نے ہزاروں شامی شہریوں کی مدد کرنے میں اپنی ناکامی اور شمالی شام میں مصیبت زدہ لوگوں تک امداد پہنچانے میں ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔

گذشتہ پیر کے روز جنوبی ترکیہ اور شمالی شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد تقریباً 30,000 افراد لقمہ اجل بنے ہیں جبکہ اس قدرتی آفت سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری مارٹن گریفتھس اتوار کے روز بتایا ہے’’کہ عالمی ادارہ شمال مغربی شام کی آبادی تک امدادی سامان پہنچانے میں اب تک ناکام چلا آ رہا ہے۔

ایک ٹویٹ میں مارٹن گریفتھس نے بتایا کہ "شمال مغربی شام کے لوگوں نے ہمیں ناکام کر دیا ہے۔ وہ خود کو لاوارث محسوس کرنے میں حق بجانب ہیں کیونکہ وہ جس بین الاقوامی مدد کے منتظر تھے وہ ان تک ابھی نہیں پہنچی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں