عرب رہ نماؤں نے مقبوضہ القدس اورغربِ اردن میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عرب اور اسلامی ممالک کے دسیوں رہ نماؤں اور سینیرعہدے داروں نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی مذمت کی ہے۔ان مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل اورفلسطینیوں کے درمیان تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

قاہرہ میں منعقدہ اجلاس کی میزبانی عرب لیگ نے کی تھی۔اس میں مصرکے صدرعبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور فلسطینی صدرمحمود عباس کے علاوہ کئی وزرائے خارجہ اور سینیر حکام نے شرکت کی تھی۔

اجلاس میں مقررین نے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں اسرائیل کے’’یک طرفہ اقدامات‘‘ کی مذمت کی۔ان میں فلسطینیوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں ،گھروں کی مسماری اور بستیوں کی توسیع شامل ہے۔

انھوں نے اسرائیلی حکام کے شہرکے متنازع مقدس مقام (مسجدِ اقصیٰ) کے دورے کی بھی مذمت کی جو یہودیوں اور مسلمانوں دونوں کے لیے مقدس ہے اور اکثراسرائیل، فلسطینی بدامنی کا مرکز رہا ہے۔اسرائیلی حکومت کی جانب سے فوری طور پراس بیان پرکوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

حکام نے مسجدِاقصیٰ کے محافظ کے طورپراردن کے کردار کی حمایت کی جو اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مسلمانوں کا پہلا قبلۂ اوّل مسجدِ اقصیٰ قدیم شہرمیں ایک پہاڑی کی چوٹی پرواقع ہے۔یہ یہودکے لیے سب سے مقدس مقام ہے اور وہ اسے ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں کیونکہ یہ قدیم زمانے میں یہودی معابد کا مقام تھا۔

واضح رہے کہ سنہ 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس پرقبضہ کرلیا تھا۔اس کے بعد سے یہودیوں کومسجد اقصیٰ میں جانے کی اجازت دی گئی ہے لیکن وہ وہاں عبادت نہیں کر سکتے۔ اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا غیرمنقسم دارالحکومت قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے خبردارکیاکہ اس مقام کی حیثیت کو تبدیل کرنے کے کسی بھی اسرائیلی اقدام کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور کہا کہ ان سے اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لیے مستقبل کے مذاکرات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات دیرینہ تنازع کے دوریاستی حل میں رکاوٹ پیدا کریں گے جس سے فریقین اور پورے مشرقِ اوسط کے پاس مشکل اور سنگین آپشنز ہوں گے۔

اس تنظیم کے سیکرٹری جنرل احمدابوالغیط نے بھی خبردارکیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کو تقسیم کرنے اور اس کی عرب اور اسلامی شناخت کو ختم کرنے کی کوششیں "نہ ختم ہونے والی بدامنی اور تشدد کو ہوا دیں گی۔

فلسطینی صدر عباس نے کہا کہ ان کی انتظامیہ اقوام متحدہ اور اس کی ایجنسیوں کا سہارا لے گی اور تنازع کے دو ریاستی حل کے تحفظ کے لیے ایک قرارداد کا مطالبہ کرے گی۔انھوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست اپنے عوام کے جائزحقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی عدالتوں اور تنظیموں سے رجوع کرتی رہے گی۔

قاہرہ کا یہ اجتماع ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب مقبوضہ بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے میں مہلک تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک پینتالیس فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔اس دوران فلسطینیوں نے اسرائیل میں سے دس افراد کو ہلاک کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں