اردنی وزیر خارجہ کا دورہ دمشق، شام کے عرب بلاک میں واپسی کے کتنے امکانات ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بارہ سال میں پہلی بار اردنی وزیر خارجہ ایمن صفدی نے دمشق کا دورہ کیا اور شام کے صدر بشار الاسد سے ملاقات کی۔

الصفدی نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ ان کا شام کا دورہ مصیبت زدہ شامی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیغام واضح ہےجو کہ شامی عوام کے ساتھ زلزلے کی آزمائش اور اس کے اثرات پر قابو پانے کے لیے کھڑے ہونے کی تصدیق کر رہا ہے۔

شام کی عرب بلاک میں واپسی

بہت سے لوگ اردنی وزیر خارجہ کے دورہ دمشق کو شام کی عرب بلاک میں واپسی اور دمشق پر ایرانی اثرو نفوذ کو کم کرنے کی کوششوں کےطور پر دیکھ رہے ہیں۔

اس سے پہلے بھی عرب ممالک کے رہ نماؤں نے دمشق کے دورے کیے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا صفدی کا دورہ اس رجحان کو تقویت دے گا؟نیز شام کو عرب بلاک میں واپس لانے کے لیے کس تیزی کے ساتھ کام کی ضرورت ہے۔

مصنف اور سیاسی محقق ڈاکٹر خلف المفتاح نے اسکائی نیوز عربیہ سے بات کی اور اس بات پر زور دیا کہ عرب شام تعلقات کی واپسی کے مفاد میں ہے۔

المفتاح نے کہا کہ گذشتہ 12 سال میں شام جس بحران سے گذرا ہے، اس نے تمام عرب بلاک کے استحکام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ شام اور دیگر عرب ممالک کے باہمی تعلقات کی بحالی سب کے مفاد میں ہے۔

"اردن کے دارالحکومت عمان میں نما سینٹر فار اسٹریٹجک کنسلٹیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ڈاکٹر فارس بریزات نے کہا کہ یہ دورہ شام کو عرب ممالک میں شامل کرنے کی کئی سابقہ کوششوں کے تسلسل کے طور پر ہو رہا ہے۔

بریزات نے کہا کہ "الصفدی کے شام کے دورے کے بہت سے سیاسی سمجھ میں آتے ہیں کیونکہ مشترکہ اسٹریٹجک اور سکیورٹی مفادات ہیں۔

بریزات نے توجہ دلائی کہ اردن شام کا سیاسی دورہ انسانی امداد سے زیادہ اہم ہے کیونکہ اردن اور شام کے درمیان زلزلہ آنے کے بعد سے امداد بند نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ دورہ حالیہ انسانی تعلقات کی سیاسی انتہا ہے۔

بریزات نے زور دے کر کہا کہ اُردن اور شام کے درمیان تعلقات کو سٹریٹجک اور سکیورٹی اہداف کے لیے بحال کیا جانا چاہیے۔

بریزات نے اسکائی نیوز عربیہ کے ساتھ اپنے انٹرویو کے اختتام پر کہا کہ شام کی طرف عربوں کی دوری جاری نہیں رہ سکتی اور میں توقع کرتا ہوں کہ شام عربوں کی آغوش میں واپس آجائے گا۔

اردنی وزیرخارجہ کا دورہ شام دمشق کو عربوں کی آغوش میں بحال کرنے کی کوششوں کو تقویت دینے کے لیے آیا ہے۔ بریزات نے کہا کہ پابندی کے باوجود شام کو امداد کی فراہمی کا راستہ کھولنے کا امریکی اقدام دوسرے ممالک کے لیے شام کے قریب جانے کے دروازے کھول سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں