سعودی عرب اور ایران، سٹریٹیجک صبر کی پالیسی!

سعودی عرب نے انقلاب کے بعد ایران سے تعلقات کیسے منظم کئے، ایرانی پاسداران انقلاب نے بتائے بغیر حجاج کے تھیلوں میں دھماکہ خیز مواد چھپا دیا تو کیا ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

جون 1984 کا مہینہ ایک اہم واقعہ کا گواہ ہے جب ایرانی لڑاکا طیاروں کا ایک گروپ سعودی فضائی حدود میں داخل ہوا اور سعودی افواج نے ان کا مقابلہ کیا اور ان میں سے کئی کو مار گرایا تھا، اس طرح ایرانی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب ایرانی جنگی طیاروں نے سعودی سرحدوں کو عبور کیا بلکہ اس سے پہلے ایک سے زیادہ "اشتعال انگیز" چھیڑ چھاڑ کی جا چکی تھی جس پر سعودی عرب نے انتباہ جاری کرنے پر اکتفا کیا تھا ایران میں سیاستدانوں کو یہ پیغام بھیجا کہ ریاض ایسی غیر قانونی کارروائیوں کی تکرار قبول نہیں کرے گا جو بین الاقوامی معاہدوں اور اصولوں سے متصادم ہیں۔

سعودی عرب اور ایران کے پرچم
سعودی عرب اور ایران کے پرچم

سعودی ردعمل

نئے نئے انقلاب کی بیان بازی سے متاثر ہونے والے اور عراق کے ساتھ جنگ میں مصروف ایرانیوں کا خیال تھا کہ سعودی عرب ان کے فضائی حملوں کا جواب دینے میں سنجیدہ نہیں اور ریاض ایرانی جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش نہیں کرے گا۔ لیکن جون 1984 میں جو کچھ ہوا اس نے ان کے ادراک کی غلطی ثابت کر دی۔

سعودی عرب نے دو ایرانی طیاروں کو مار گرانے کا اعلان کیا اگرچہ یہ تعداد زیادہ تھی۔ تاہم مرحوم شاہ فہد بن عبدالعزیز آل سعود نے صرف دو جنگی طیارے مار گرانے کے اعلان کا حکم دیا اور جب کچھ لوگوں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ ایرانی جانتے ہیں کہ انہوں نے کتنے طیاروں کا نقصان ہوا اور ہم جانتے ہیں کہ ہم نے کتنے طیارے مار گرائے ہیں ۔ شاہ فہد بن عبدالعزیز کا مقصد ایرانیوں کو ایک مضبوط پیغام دینا تھا کہ مسلسل خلاف ورزیاں ناقابل قبول ہیں اور مملکت ان کا فیصلہ کن جواب دے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مکالمے اور روابط کے لیے ایک دروازہ کھلا رکھنا بھی چاہتے تھے۔ اس حوالے سے ایک خلیجی ذریعہ نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ یہ شاہ فہد بن عبدالعزیز کی حکمت عملی تھی جو تعلقات مکمل بند نہ کرنے پر مبنی تھی ۔ انہوں نے دروازے مکمل بند نہیں کیے اور سفارت کاری، مواصلات اور پرامن حل کے لیے کھلی کھڑکی رکھنے کی حکمت عملی اپنائی۔

اس طرح سعودی عرب نے اپنی قومی سلامتی کا کھلے عام اور دو ٹوک انداز میں تحفظ کیا ہے ۔ جیسا کہ واشنگٹن میں سعودی سفیر شہزادہ بندر بن سلطان آل سعود نے اس وقت تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور ہم نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ہمیں اس تنازعہ میں گھسیٹا گیا۔انہوں نے مزید کہا مو ہم اپنے ملک کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں، اور ہمارے مفادات پر حملہ کرنا ناقابل قبول ہے۔

شاہ فہد بن عبد العزیز
شاہ فہد بن عبد العزیز

تعلقات برقرار رکھے گئے

طاقت اور سفارت کاری کے درمیان توازن پر مبنی اس اصول کی بنیاد پر سعودی عرب نے ایرانی دارالحکومت تہران میں اپنے سفارت خانے کے عملے کے ساتھ ساتھ ریاض میں ایرانی سفارت خانے کی موجودگی کو برقرار رکھا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع نہیں کیے۔ 1987 کے حج کے واقعات تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ 1987 کے حج میں شدید تناؤ پیدا کیا گیا جس کے نتیجے میں 402 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 85 سعودی شہری اور سکیورٹی اہلکار اور 42 دیگر ملکوں کے عازمین حج تھے۔ اس دوران 649 افراد زخمی بھی ہوگئے۔ زخمیوں میں 145 سیکورٹی اہلکار اور شہری اور 201 غیر ایرانی زائرین شامل تھے۔

شہزادہ بندر بن سلطان
شہزادہ بندر بن سلطان

دوران حج احتجاج

یہ دردناک واقعات ایرانی حج مشن کے زیر اہتمام "مشرکین سے براءت" مارچ کے بعد ایرانی زائرین اور سعودی سیکورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی تصادم کے بعد پیش آئے۔ اس مارچ میں امریکہ، اسرائیل اور مغربی ملکوں کے خلاف سیاسی نعرے لگائے گئے۔ یہ وہ نعرے تھے جنہیں سعودی عرب حج کے مقاصد کے خلاف سمجھتی ہے۔

’’العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ نے ایک انٹرویو میں ایک باخبر خلیجی ذریعہ کے حوالے سے بتایا کہ کوئی بھی نہیں چاہتا تھا کہ حج کے سیزن میں اس قسم کے واقعات ہوں یا کوئی جانی نقصان پر مبنی واقعہ ہو،لہذا مملکت کا موقف حج کی مناسک کو سیاسی بنانے کے خلاف باکل واضح تھا اور یہ کہ حج کا سیزان صرف عبادت کے لیے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سالوں سے سعودی عرب ایرانی حکومت کے ساتھ بات چیت کرتا رہا ہے۔ ذرائع نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو میں بتایا کہ سعودی عرب ایران سے حج میں سیاسی مارچ کے بارے میں بات کرتا رہا اور اسے سمجھاتا رہا ہے کہ یہ ناقابل قبول رویہ ہے اور اسے کوئی بھی ملک قبول نہیں کرتا کہ ایک غیر ملکی حکومت اس کی سرزمین پر مارچ کرے تو مملکت اسے کیسے قبول کرتی ؟ تاہم ایران کے مخصوص کیمپوں نے بدقسمتی سے سعودی ہدایات پر عمل نہیں کیا ۔

حج کے سیزن میں ایرانیوں کا احتجاج
حج کے سیزن میں ایرانیوں کا احتجاج

حجاج کو پھنسایا گیا

1987 سے پہلے کی بات کریں تو خاص طور پر 1986 کے سال سعودی سکیورٹی حکام نے ایرانی زائرین کے ایک گروپ کو تھیلوں میں چھپائے گئے دھماکہ خیز مواد دریافت کرنے کے بعد گرفتار کرلیا۔ دھماکہ خیز مواد کا وزن تقریباً 51 کلو گرام تھا۔ یہ سی فور کا انتہائی دھماکہ خیز مواد تھا جسے 95 تھیلوں میں خفیہ طریقے سے چھپایا گیا تھا۔ اس حوالے سے دلچسپ عنصر یہ تھا جیسا کہ ایک باخبر ذریعہ نے ’’العربیہ ڈاٹ نی‘‘ٹ کو بتایا کہ ایرانی زائرین کے تھیلوں میں دھماکہ خیز مواد ان کے علم میں لائے بغیر چھپایا گیا تھا۔

حجاج نے یہ تھیلے سفر سے قبل ہی مشنز کے حوالے کئے تھے جس کے بعد پاسداران انقلاب نے اگلی کارروائی کرتے ہوئے ان تھیلوں میں دھماکہ خیز مواد چھپا دیا تھا اور عازمین حج کو اس کی خبر نہیں تھی۔ اس صورت حال سے خود ایرانی بھی حیران رہ گئے تھے ۔ سعودی حکام نے تحقیقات کے دوران یہ معاملہ دریافت کرلیا تھا۔ غالباً دھماکہ خیز مواد سعودی عرب کے اندر اہم اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ افراد کے ایک گروپ اور پاسداران انقلاب سے منسلک سلیپر سیلز کے درمیان رابطہ کاری کے ذریعہ دھماکے کیے جانے تھے۔

ذرائع نے مزیدبتایا کہ ایک ایسی حکومت پر کیسے بھروسہ کیا جا سکتا ہے جو اپنے شہریوں کو دھماکا خیز مواد کی سمگلنگ میں اور حج کے موسم میں ان کے علم کے بغیر ان کا استحصال کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے؟

مسجد حرام میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ایرانیوں کا ایک مظاہرہ
مسجد حرام میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ایرانیوں کا ایک مظاہرہ

تعلقات منقطع کرنے کی ضرورت

1987 کے حج کے واقعات سعودی ایران تعلقات میں ایک فیصلہ کن موڑ تھے جب حج کے موسم کے فوراً بعد مظاہرین کے ایک بڑے گروپ نے ایران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ کردیا ۔ سفارت خان پر دھاوا بولتے ہوئے سعودی سفارتی مشن کے ارکان پر حملہ کیا گیا۔ اس کے بعد مظاہرین نے جن کی حمایت "پاسداران انقلاب" نے کی تھی نے سعودی پرچم اتار دیا اور ایرانی پرچم بلند کر دیا۔

ان تیز رفتار ریشہ دانیوں نے ریاض کو تہران میں سفارت خانے میں کام کرنے والے اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے اور انہیں سعودی عرب واپس بلانے پر مجبور کردیا۔ ساتھ ہی سعودی عرب نے ایرانی سفارتی مشن کو بھی اپنے ہاں سے نکلنے کا حکم د ے دیا۔ اس طرح سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کو منقطع کرنے کا اقدام طویل صبر کے بعد سامنے آیا۔ سعودی عرب کی جانب سے ایران کے ساتھ مختلف پرامن طریقے اپنائے گئے تاہم اتنے طویل صبر کے بعد پر امن طریقے اختتام کو پہنچ چکے تھے۔ ایرانی سعودی پیغامات کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پائے تھے۔ ایک خلیجی ذریعہ نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کو بتایا کہ سعودی عرب نے اپنے اقدامات سے قبل یہ ثابت کیا کہ ایران کا حساب کتاب غلط تھا اور سعودی عرب کے لیے ضروری ہوگیا تھا کہ وہ تعلقات منقطع کرنے کو اختیار کرلے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں