جوہری ایران

امریکہ، جی سی سی کی ایرانی پالیسیوں کی مذمت

ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے ایک مشترکہ بیان میں ایران کی عدم استحکام کی پالیسیوں کی مذمت کی اور خطے میں ایرانی ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سینیئر امریکی حکام اس ہفتے ریاض میں جی سی سی کے حکام کے ساتھ ایران اور دیگر مشترکہ خطرات پر بات کرنے لیے موجود ہیں۔

یہ مشترکہ بیان منگل کو ریاض میں ایران کے بارے میں یو ایس-جی سی سی ورکنگ گروپ کے اجلاس کے بعد سامنے آیا، اور اس میں ایرانی حکومت کی جانب سے "دہشت گردی کی حمایت، جدید میزائلوں، سائبر ہتھیاروں، اور ڈرون سسٹم کے استعمال کے خطے اور دنیا کے دیگر ممالک پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اور اس کی حمایت یافتہ ملیشیا ان ہتھیاروں کو عام شہریوں، اہم انفراسٹرکچر اور بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

بیان میں حوثی ملیشیا کو روایتی ہتھیاروں، جدید میزائلوں اور بغیر پائلٹ کے فضائی نظام کی فراہمی سمیت ایران اور ریاستی و غیر ریاستی عناصر کے درمیان بڑھتے ہوے فوجی تعاون پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جس کے باعث"یمن میں تنازع کو طول دیا گیا اور انسانی تباہی بڑھ گئی۔

امریکہ اور جی سی سی کے رکن ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کی طرف سے ان ہتھیاروں کا پھیلاؤ اور دیگر گروپوں کو فراہمی خواہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری، "خطے اور پوری دنیا کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔"

بیان میں ایران کے جوہری پروگرام پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، خاص طور پر انتہائی افزودہ یورینیم کی پیداوار، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ایران کی سول ضروریات سے زیادہ ہے۔

بیان میں ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ "اپنی جوہری اشتعال انگیزیوں کو روکے، سفارتی عمل میں خلوص سے حصہ لے، اور ایران میں غیر اعلانیہ مقامات پر پائے جانے والے جوہری مواد کے حوالے سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی تحقیقات میں مکمل تعاون کرے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں