سعودی عرب میں فلمی افق پرروشن ستارہ بن کرچمکنے والے فہد القحطانی سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سعودی عرب کی فنکار برادری کی مشہور ترین شخصیات پر نگاہ ڈالی جائے تو فہد القحطانی بلا شبہ ایک فلم انڈسٹری کے افق پرایک چمکتے ستارے کی طرح ہیں۔ ویسے تو انہوں نے سعودی عرب میں باکس آفس پر ریکارڈ بزنس کرنے والی فلموں میں کام کیا مگر’الھامور ح۔ ع‘ میں ادا کاری نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

فن کار فہد القحطانی نے نہ صرف فلموں میں کام کیا بلکہ انہوں نے ٹی وی پربھی کئی مقبول پروگرام پیش کیے۔ فلمی دنیا میں نمایاں خدمات انجام دینے پرانہیں اندرون اور بیرون ملک میں کئی ایوارڈز بھی نوازا گیا۔ آج ان کے مداحوں کی تعداد کروڑوں میں ہے جو نہ صرف سعودی عرب بلکہ دیگرعرب ملکوں میں بھی موجود ہیں۔

فلم "الھامور ح، ع" ان کی پہلی بڑی فلم تھی جس نےفہد القحطانی کو ایک بالکل مختلف مقام پرلا کھڑا کیا۔ یہ فلم نہ صرف مملکت میں دکھائی گئی اور عوام میں مقبول ہوئی بلکہ مصر میں بھی اپنی فلم دکھا کر تاریخ رقم کی۔ اس فلم میں فہد نے حامد نامی شخص کا کردار ادا کیا۔

العربیہ ڈااٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے فہد نے بتایا کہ فلمی دنیا میں ان کا تجربہ حیران کن اور ناقابل یقین حد تک خوش گوار رہا۔ ان کے کردار کو عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کا پہلا فلمی تجربہ تھا جو ان کے لیے ’سرپرائزنگ‘ تھا۔

فلم میں پہلا تجربہ اور فلم کی مصرمیں نمائش

ایک سوال کے جواب میں فہد القحطانی نے کہا کہ عظیم ہدایت کار عبد الالہ القرشی نے مجھے اس کردار کی پیشکش کی تو میں حیران رہ گیا کیونکہ یہ بہت بڑی ذمہ داری کا کردار تھا۔ میں نے ایک بڑی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائی۔ میں نے یہ ذمہ داری اس وقت قبول کی جب القرشی نے سعودی فلمی صنعت کو آگے بڑھانے کا ذمہ خود اٹھایا، لیکن میں اس مہم جوئی میں اکیلا نہیں تھا۔ مُجھے سب کی طرف سے لامحدود تعاون حاصل تھا۔ اس کے باوجود مجھے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور میں اس کردار کوادا کرنے کے لیے تیار ہوگیا۔ حامد ایک مشکل کردار ہے اور یہ ایک ایسا کریکٹر ہے جس کی ایک سے زیادہ بیگمات ہیں۔ یہ صورت حال غیر معمولی تھی۔ اس کی ہر بیوی کی شخصیت اور مزاج الگ الگ تھا۔ میں کردار کو لے کر بہت گھبرایا ہوا تھا مگر فلم کا خیال حقیقی تھا۔ اس کردار کو احتیاط سے کے ساتھ کرنا تھا۔

اس فلم میں بیان کردہ واقعات کا تعلق سنہ 2000ء اور 2004ء کے ادوارسے ہے۔ یہ اس فلم کے ہیرو کی کہانی ہے۔ اگرچہ فلم ایک مخصوص شخص کے مسئلے سے متعلق ہے مگر ہم نے فلم کے اندر بہت سے مسائل پر روشنی ڈالی اورمجھے امید ہے ناظرین اسے پسند کریں گے.

مصر میں فلم دکھانے کا خیال کیسے آیا؟

فہد القحطانی کا کہنا ہے کہ مصر میں فلم کی نمائش کا خیال فلم کی تعریف کے سرٹیفکیٹ کے مترادف ہے اور میں مصری ناظرین سے وعدہ کرتا ہوں کہ وہ ایسی فلم دیکھیں گے جو انہیں پسند آئے گی۔ یہ پہلی سعودی فلم ہے جسے تجارتی طور پرمصرمیں دکھایا گیا ہے۔ یہ میرے لیے اور فلم کے تمام کرداروں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ مصری فلم بین سینما سے خوب واقف ہیں۔

مصر میں فلم کی پذیرائی کیسی لگی؟

سعودی فن کارنے کہا کہ ہم ان تمام مصری ستاروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے فلم کی سپورٹ کی۔ خاص طور پرنامور فن کار اشرف ذکی کا شکریہ ادا کرتے ہین جنہوں نے فلم کی نمائش کا خیرمقدم کیا۔ فلم جب عکس بندی کے مرحلے میں تھی اس وقت سے اس کی حمایت کی تھی۔ موسیقار ہشام نازیہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، کیونکہ انہوں نے فلم کے لیے جو موسیقی ترتیب دی اس کی وجہ سے فلم نے اپنی کامیابی کا نصف سفر طےکرلیا۔

فلم میں اپنے کردار پر بات

انہوں نے کہا کہ میں نے حامد کا کردار مجسم کیا جو کہ ایک غریب آدمی ہے، لیکن غربت سے تنگ آکر اس نے کھیل کے اصول بدل دیےاور مکالمے کی زبان اس کے لیے طاقت اور پیسہ بن گئی، لیکن اس کے ذریعے میں بہت سی مشکلات سے گزرا۔ کیونکہ یہ کردار زندگی کے بہت سے کٹھن مراحل سے گذرا تو مجھے بھی 15 سے 50 سال کی عمر تک کے کردار کی ادائی کے لیے حامد کی زندگی کے مطابق مشکلات کو پیش کرنا تھا۔

آپ کو اس کردار کے لیے کیسے نامزد کیا گیا؟

مجھے القرشی کا اچانک فون آیا اور اس نے مجھے ایک نئے فلمی کام میں شامل کرنے کی خواہش کے بارے میں بتایا۔ جب میں نے پہلی بار اسکرپٹ پڑھا تو میں براہ راست حامد کے کردار سے جڑ گیا، یہاں تک کہ جب ڈائریکٹر نے مجھ سے پوچھا آپ کس کردار کو مجسم کرنا چاہیں گے؟ میں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اور چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، ’’حامد۔‘‘ القرشی نے ہنستے ہوئے مجھے اثبات میں جواب دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں