سعودی عرب کے نابینا شہسوار جنہوں نے گھڑ سواری میں عالمی مقابلہ جیتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے بدر الشراری ایک حادثے میں بینائی کھو بیٹھے تھے مگر بینائی کی نعمت سے محرومی نے انہیں گھڑسواری کے عالمی چیمپئین بننے سےنہیں روکا۔ انہوں نے ہمت اور حوصلے سے گھڑ سواری کی مشق جاری رکھی اور آخر کار’انٹرنیشنل نائٹ‘ کا ٹائٹل حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

بدر الشراری کا کہنا ہے کہ نابینا ہونے کے بعد گھڑسواری ان کے لیے ایک مشکل چیلنج تھا مگرانہوں نے ہرمشکل سے لڑنا سیکھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گھڑ سواری میرا بچپن کا خواب تھا جسے 6 ماہ قبل "لاجلھم" ایسوسی ایشن نے معذور افراد کی خدمت کےدوران پورا کیا۔ یہ ادارہ شہزادی نواف بنت عبدالرحمٰن بن ناصر آل سعود کی سرپرستی میں کام کرتا ہے۔ اس کے توسط سے گھڑ سواری کی مشق کے دوران میں نے تمام مشکلات کو عبور نہیں کیا۔ میں نے یہ مشکل اس سوچ کے تحت حل کی کہ میں ایک چیلنج کے دہانے پر ہوں اور ہمت نہیں ہارنا۔ لہٰذا میں نے اس مرحلے کو پرامن طریقے سے عبور کیا۔ گھڑ سواری کی محبت ان کی رگ وپے میں بسی ہوئی ہے اور ان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں نابینا گھڑ سوار نے کہا کہ مجھے مدھال سینٹر کے ذریعے بھی مدد ملی جس نے 70 فیصد تک معذوروں کے لیے ڈسکاؤنٹ میچ پیش کیا اور ان کے ذریعے گھڑ سواری اور جمپنگ کی تربیت اور مشق کی۔

الشراری نے اپنی چیمپئن شپ کے بارے میں بتایا جہاں انہوں نے دو چیمپئن شپ حاصل کیں۔ ان میں سے پہلی گریجویشن شیلڈ اور گریجویشن کپ ہے۔انہوں نے سعودی گھڑ سواری فیڈریشن میں 40 اور 60 بیریئر جمپنگ مقابلے میں حصہ لیا اور پہلی پوزیشن حاصل کی۔ بہت سے نظر رکھنے والے افراد بھی اس مقابلے میں شریک تھے۔ انہیں سعودی گھڑ سواری فیڈریشن کے صدر شہزادہ عبد اللہ بن فہد الفیصل کی حمایت بھی حاصل رہی۔

الشراری نے اپنے عزائم کو "سرحدوں سے ماوراء " قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی سطح پر اپنے وطن سعودی عرب کا نام بلند کرنا چاہتے ہیں۔ شو جمپنگ کے خطرے کے باوجود وہ ایک نئے تجربے کے ذریعے کامیاب ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں