جوہری ایران

ایران نے 84 فیصد تک یورینیم افزودہ کرنے کی دعووں کی تردید کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایران نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ اس نے اپنے جوہری پلانٹ میں یورینیم کو 84 فیصد تک خالص افزودہ کر لیا ہے جو کہ ہتھیاروں کے درجے کے قریب ہے۔

ایران جوہری توانائی ایجنسی کے ترجمان بہروز کمالوندی نے پیر کے روز سرکاری نیوز ایجنسی ایرنا کو بتایا کہ"اب تک ہم نے 60 فیصد سے زیادہ افزودہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ 60 فیصد سے زیادہ افزودہ ذرات کی موجودگی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم نے 60 فیصد سے زیادہ افزودگی کے ساتھ پیداوار شروع کر دی ہے،"

بلومبرگ نے اتوار کو خبر دی تھی کہ اقوام متحدہ کے واچ ڈاگ نے گذشتہ ہفتے 84 فیصد افزودہ یورینیم کا پتہ لگایا ہے۔

کمالوندی نے اس رپورٹ کو "بہتان" قرار دیا اور کہا کہ حقائق کو مسخ کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی جوہری ایجنسی نے تین مہینے پہلے انکشاف کیا تھا کہ ایران نے اپنے جوہری پلانٹ فوردو میں اپریل 2021 سے یورینیم کو 60 فیصد تک خالص افزودہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ ہتھیاروں کی تیاری کے لیے 90 فیصد کے قریب خالص یورینیم کی افزودگی درکار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں