مصر میں نکاسی آب کنویں میں گر کر بچہ جاں بحق ، اہل خانہ نے دردناک تفصیل بتا دی

10 میٹر گہرا پانی عما د کو بہا لے گیا، ایک غوطہ خور کو ایک پائپ کے اندر سے لاش مل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

قاہرہ کے شمال میں’’ دمیاط‘‘گورنری میں نکاسی آب کے گہرے کنویں میں گر کر بچہ جاں بحق ہوگیا۔ مصری بچے عماد محمود کے اہل خانہ نے دردناک تفصیلات سے آگاہ کردیا۔

گرنے والے مصری بچے عماد محمود کے اہل خانہ کی بتائی گئی تفصیلات سے معلوم ہوا کہ عماد کی کہانی بھی گزشتہ سال فروری میں مراکش کے بچے ریان سے ملتی جلتی ہے۔ ریان کی کہانی نے دنیا بھر میں لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

بچے عماد کی قبر

مصری بچے عماد محمود کی والدہ نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ اس کے بیٹے کے ایک دوست نے اسے بتایا کہ اس کا بیٹا ایک گڑھے میں گر گیا ہے تو میں جائے حادثہ پر پہنچی ۔ میں اس بات پر حیران رہ گئی تھی کہ عماد محمود زرعی زمینوں کی آب پاشی کے لیے بنائے گئے نالے میں گر گیا تھا۔ یہ نالہ 10 میٹر گہرے پانی سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے اس گڑھے میں دیکھا تو عماد نہیں ملا۔ نالے کے کھلے ہونے سے پانی بہ گیا تھا۔

ماں نے بتایا میں نے مدد کے لیے پکارا تو لوگ مدد کے لیے دوڑے لیکن میرا بیٹا لاپتہ ہو گیا تھا اور وہ اپنی روح کے پرواز کرنے تک اس کنویں میں ہی رہا۔ کئی گھنٹے بعد غوطہ خوروں میں سے ایک اس کی لاش نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔

وہ جگہ جہاں بچہ گرا

ماں نے بتایا کہ حادثے سے کچھ دیر قبل اس کے بیٹے نے پرائیویٹ درس میں جانے سے پہلے اس سے مٹھائی خریدنے کے لیے پیسے مانگے تھے۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ سڑک پر چلتے ہوئے اس کا پاؤں پھسل کر وہ کنویں میں گر گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے عماد کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ ہزاروں افراد نے اس کو سپرد خاک کرنے میں شرکت کی۔ گاؤں اور آس پاس کے دیہات کے لوگوں کے ساتھ ساتھ بیٹے کے سکول کے ساتھی بھی جنازہ میں شریک تھے۔

لاش نکالنے والے غوطہ خور علی صابر نے بتایا کہ یہ کنواں علاقے میں تقریباً 300 ایکڑ رقبے کو سیراب کرنے کے لیے وقف ہے اور اس میں نکاسی کے بڑے پائپ لگے ہوئے ہیں۔ایک بڑے پائپ قطر دو میٹر ہے۔ اس نے بتایا کہ لاش پانی کے پائپ کے پہلے کھلنے سے 70 میٹر کے فاصلے پر تھی اور بچہ منہ کے بل پڑا ہوا پایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بچے کا والد کنویں کے باہر اس کا انتظار کر رہا تھا اور اس نے لاش وصول کی۔

علی صابر نے مزید بتایا کہ بچے کی ماں نے اپنے بیٹے کی لاش کو دیکھا تو دل دہلا دینے والی چیخ و پکار شروع کردی۔ اگر لوگ مداخلت کرکے ماں کو نہ روکتے تو شاید وہ خود کو بھی اس کنویں پھینک دیتی۔ علی صابر نے کہا حادثہ انتہائی دردناک تھا۔ اس واقعہ سے سارا گاؤں دہل کر رہ گیا۔ کسی کو بھی عماد کی موت کا یقین نہیں آ رہا تھا۔

دمیاط گورنریٹ کے کفر سعد شہر سے منسلک ’’کفر الغاب‘‘ گاؤں میں پیش آئے اس واقعہ نے ایک مرتبہ پھر مراکش کے بچے ’’ ریان‘‘ کے دردناک واقعہ کی یاد دلا دی ۔ ریان بھی کھیلتے ہوئے ایسے ہی کنویں میں گر گیا تھا۔ اسے بچانے کی بھرپور کوششیں کی گئیں مگر وہ فوت شدہ حالت میں ہی ملا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں