مظاہرین کو سزائے موت دینے پرایرانی جج بھی عالمی پابندیوں کے نشانے پرآگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لکسمبرگ کے وزیر خارجہ جین ایسلبورن نے پیر کے روز کہا کہ یورپی یونین درجنوں ایرانیوں پر پابندیاں عائد کرے گی، جن میں وہ ججز بھی شامل ہیں جو مظاہرین کو سزائے موت دینے میں ملوث رہے ہیں۔

ایسلبورن نے مزید کہا کہ ججز، جیل کا عملہ اور دوسروں کو موت کی سزا سنانے والے ان کے درجنوں نام فہرست میں شامل کیے جائیں گے۔"

گذشتہ نو جنوری کو بیلجیئم، ہالینڈ اور ڈنمارک نے ایران میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کے سلسلے میں ایران میں مظاہرین کو پھانسی دیے جانے کے ردعمل میں تہران کے سفیروں کو طلب کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر سرگرم کارکنوں کی جانب سے پوسٹ کیے گئے ویڈیو کلپس میں گذشتہ جنوری میں دو مظاہرین کو پھانسی دینے کے بعد ایران بھر میں احتجاج کی ایک نئی لہر کو دکھایا گیا تھا۔ ایرانی حکام کا دعویٰ تھا کہ پھانسی کی سزا پانے والےدونوں ملزمان کو "پسیج" کے رکن کے قتل میں ملوث ہونے اور قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

مظاہرین نے دارالحکومت تہران میں رہبر معظم علی خامنہ ای کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

ان میں سے کچھ نے حکومت کی طرف سے شروع کی گئی پھانسیوں کی مہم کے حوالے سے تہران کی ایک مرکزی سڑک پر پھندے لٹکائے اور مظاہرین نے پھانسیوں کی مذمت کرتے ہوئے اور خامنہ ای کی حکمرانی کے خلاف "انقلاب" جاری رکھنے پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں