خفیہ اجلاسوں میں نیتن یاہو کا ایرانی تنصیبات پر حملے کے لیے تیاری کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جوں جوں مغربی ممالک کے ایران میں یورینیم کی افزودگی کے تناسب میں اضافے کے خدشات بڑھ رہے ہیں اور جوہری معاہدے کی بحالی کی کوششیں بھی تعطل کا شکارہیں ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے آنے والے عرصے کے دوران ایرانی جوہری معاملے سے نمٹنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق "نیتن یاہو نے سکیورٹی کی سطح کے رہ نماؤں کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے اسرائیلی تیاری کی سطح کو نمایاں طور پر بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔"

حماس اور حزب اللہ کو پیغامات

عبرامی ٹی وی چینل نے وزیراعظم نیتن یاہو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نیتن یاھو امریکی، فرانسیسی، جرمن اور دیگر حکام سے کہا کہ اگر وہ ایران میں پیش رفت پر عمل نہیں کر سکتے تو اسرائیل خود کارروائی کرے گا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قابل بھروسہ اور قابل اعتماد فوجی کارروائی کے بغیر ایرانی جوہری خطرہ کم نہیں ہوگا۔ نیتن یاھو نے اس بات پر زور دیا کہ تہران پر اقتصادی پابندیاں کافی نہیں ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اسرائیل حماس اور حزب اللہ کو بھی پیغامات بھیج رہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی غیر مستحکم سیاسی صورتحال اسرائیلی فوج کو غزہ یا لبنان میں فوجی کارروائی شروع کرنے اور اسرائیل کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کے خلاف زبردستی اور پرتشدد جواب دینے سے نہیں روکتی ہے۔ .

یہ پیش رفت ان اطلاعات کی روشنی میں سامنے آئی ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کے لیے درکار حد کے قریب پہنچ رہا ہے۔

جوہری معاہدے کےلیے بات چیت تعطل کا شکار

قابل ذکر ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے 8 اگست 2022 کو ایران کے جوہری پروگرام پرمعاہدے کی بحالی کےلیے ہونے والی بات چیت معطل کردی تھی۔

یہ بات چیت اس وقت معطل ہوگئی تھی جب مغربی ممالک کی طرف سے تہران کے سامنے مجوزہ معاہدے کا ایک عبوری متن پیش کیا گیا تھا۔

ایران اور مغرب کے درمیان بات چیت کے باوجود تل ابیب اور تہران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل نے بار ہا خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری خطرے سے نمٹنے کے لیے کسی بھی کارروائی میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔

دوسری طرف ایرانی حکومت ملک میں ہونے والے حملوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا الزام عاید کرتی ہے۔ ان حملوں میں حالیہ مہینوں کے دوران اصفہان شہر کے قریب ایک فوجی فیکٹری پر ڈرون حملہ بھی شامل تھا۔ ایران نے اسرائیل کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

جہاں تک یورینیم افزودگی کا تعلق ہےانٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے گذشتہ ہفتے دریافت کیا تھا کہ ایران نے 84 فیصد تک افزودہ یورینیم حاصل کر لیا ہے۔ اس طرح ایران نے اب تک ملک میں انسپکٹرز کی نگرانی میں یورینیم کی افزودگی کی بلند ترین سطح تک پہنچ کر معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں