انٹرنیٹ بندش ، سخت سکیورٹی کے باوجود جنوب مشرقی ایران میں بڑے مظاہرے

زاہدان میں ’’ آمر مردہ باد‘‘ کے نعرے، بلوچ ایکٹوسٹ کمپین کی طرف سے ٹیلی گرام پر فوٹیج نشر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنوب مشرقی ایران میں جمعہ کے روز بڑی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے لگائے، سخت سکیورٹی کی موجودگی اور انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود کارکنوں نے بھرپور احتجاج کیا۔ ٹیلی گرام پر بلوچ ایکٹوسٹ کمپین (بی اے سی) کی طرف سے نشر کی گئی فوٹیج میں مظاہرین کو "آمر مردہ باد" کے نعروں کے ساتھ صوبہ سیستان-بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان کے مرکز میں مارچ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

پاکستان کی سرحد سے متصل صوبہ زاہدان ستمبر 2022 میں شروع ہونے والے مظاہروں کا اہم مقام تھا۔ اوسلو میں قائم غیر سرکاری تنظیم ’’ہیومن رائٹس اِن ایران ‘‘ کے مطابق خطے میں مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں کم از کم 131 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ زیادہ تر ہلاکتیں 30 ستمبر کو زاہدان میں ایک ہی دن میں ہوئیں۔ اس دن کو ’’ خونی جمعہ‘‘ یا ’’ بلیک فرائیڈے‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اس دن انسانی حقوق کے گروپوں کے مظاہرین پر سکیورٹی فورسز نے اندھا دھند فائرنگ کردی تھی۔

جمعہ 24 فروری کو نئے مظاہروں میں شدت اس لیے آئی کہ خبروں کے مطابق مظاہروں کے سلسلہ میں ہی گرفتار ایک ڈاکٹر کو پولیس کی حراست میں قتل کردیا گیا ہے۔ سیستان میں واقعات پر نظر رکھنے والی " حال وش‘‘ " ویب سائٹ کے مطابق ابراہیم ریجی کو گزشتہ سال زاہدان میں گرفتار کیا گیا تھا، لیکن اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا اور پھر اسے دوبارہ پولیس سٹیشن میں طلب کیا گیا تھا۔ جہاں اسے دو پولیس اہلکاروں نے حراست میں لے کر شدید مارا پیٹا تھا۔ بلوچ کارکنوں کی مہم اور "حال وش" کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز زاہدان میں سخت سکیورٹی دکھائی دی۔ نمازیوں نے سکیورٹی فورسز کو نماز سے قبل شہر کی مرکزی مسجد میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔

انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے مناظر جن کی تصدیق نہیں کی جا سکی میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار رویتی سفید کپڑوں میں ملبوس ہیں اور ایک شخص کو مار رہے اور پھر اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم نیٹ بلاکس نے اطلاع دی ہے کہ زاہدان میں انٹرنیٹ رابطے میں نمایاں رکاوٹ سامنے آرہی ہے۔ سیستان بلوچستان اور زاہدان میں سنی بلوچ نسل کے لوگ آباد ہیں۔

ان علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ یہاں بلوچ برسوں سے امتیازی سلوک کا شکار ہیں اور انہیں غیر متناسب طور پر سزائے موت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جامع مسجد ’’ مکی کبیر‘‘ میں جمعہ کی نماز کے دوران ممتاز سنی عالم دین مولانا عبد الحمید نے اپنے جمعہ کے خطاب میں مظاہروں کی حمایت کی اور حکام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کچھ رپورٹس میں بتایا گیا کہ انٹرنیٹ پر پابندی کا مقصد لوگوں کو مولانا عبد الحمید کے آن لائن خطبات سننے اور ان پر عمل کرنے سے روکنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں