ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کا مالی معاون گرفتار، امریکا کے حوالے کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

رومانیہ کے حکام نے جمعے کو ایک لبنانی نژاد بیلجیئم کے شہری کو دارالحکومت بخارسٹ سے گرفتار کیا ہے جسے ایرانی حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کا اہم فنانسر سمجھا جاتا ہے، حکام کے مطابق اسے امریکا کے حوالے کیا جائے گا۔

حکام نے بتایا کہ 58 سالہ محمد ابراہیم بزّی، جسے 2018 میں امریکہ نے "عالمی دہشت گرد" قرار دیا تھا ، کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات کے لیے 10 ملین ڈالر کی پیشکش کی گئی تھی۔

حکام نے بتایا کہ اس نے پچھلے کئی سالوں میں حزب اللہ کو لاکھوں ڈالر فراہم کیے ہیں۔

بروکلین میں امریکی اٹارنی بریون پیس نے کہا کہ بزّی اور 78 سالہ لبنانی شہری طلال شاہین کی حوالگی کی درخواست گزشتہ ماہ وفاقی عدالت میں فرد جرم میں شامل الزامات پر کی گئی تھی۔

مئی 2018 میں، امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے حزب اللہ کو مالی، مادی، تکنیکی امداد فراہم کرنے کے لیے بزّی کو خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بزّی حزب اللہ کا ایک اہم فنانسر ہے جس نے بیلجیم، لبنان، عراق اور پورے مغربی افریقہ میں اپنی وسیع کاروبار کی آمدنی سے حزب اللہ کو لاکھوں ڈالر فراہم کیے ہیں۔

الزام کے بعد تمام امریکی شہریوں کو بزّی کے ساتھ کاروباری لین دین سے منع کیا گیا تھا۔

اس کے بعد مبینہ طور پر، بزّی اور شاہین نےامریکا میں مقیم ایک شخص کو مشی گن میں واقع کچھ رئیل اسٹیٹ اثاثوں میں اپنے مفادات کو ختم کرنے کے لیے اور خفیہ طور پر لاکھوں ڈالر کی رقم کو ملک سے باہر منتقل کرنے پر مجبور کیا تھا۔

حکام کا دعوی ہے بزّی، اور شاہین نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سے چھپ کر رقم ملک سے باہر نکالنے کے لیے متعدد طریقے اختیار کیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں