لبنان کے سکولوں میں ہڑتال،ٹیچروں نے بچے گھروں میں بلا لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنان میں اسکولوں کے اساتذہ کی طرف سے دو ماہ سےجاری ہڑتال کے بعد طلبا کو اپنا تعلیمی عمل جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری طرف دارالحکومت بیروت میں بعض معلمات نے طلبا کو اپنے گھروں میں بلا کرپڑھانا شروع کیا ہے۔

جنوبی لبنان کے ایک اسکول کے دو استانیوں سوسن اور ھیفا نہیں چاہتیں کہ اساتذہ کی ہڑتال کی وجہ سے طلباء کا مستقبل داؤ پرلگے۔ ان کی کوشش ہے کہ کنٹریکٹ پر بھرتی اساتذہ کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کے حصول کے لیے جاری ہڑتال کی قیمت طلبا کو نہ چکانا پڑے۔ دو ماہ کا عرصہ گذرنے کے باوجود حکومت ابھی تک اساتذہ کے مطالبات پورے کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے مگراس کا سب سے زیادہ نقصان طلبا کو ہو رہا ہے۔

استانیوں نے اپنے گھراسکولوں میں بدل دیے

لبنان میں سرکاری تعلیم کے اساتذہ ڈالر کے مقابلے لیرا کی گراوٹ کے نتیجے میں روز مرہ اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اپنی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرنے کے لیے دو ماہ سے زائد عرصے سے ہڑتال پر ہیں۔ ایسے میں دو استانیوں انگریزی کی سوسن دیاب اور ریاضی کی ھیفا علاؤ نے جنوبی لبنان کے زوطر غربیہ اسکول کے بچوں کو اخلاقی بنیادوں پر اپنے گھروں میں پڑھانا شروع کردیا ہے۔ ان دونوں معلمات کی کوشش ہے کہ ان کے اسکول کے بچوں کا وقت ضائع نہ ہو اور وہ پوری تیاری کے ساتھ امتحان دے سکیں۔

پرمسرت اور پرجوش اندازمیں’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے سوسن دیاب نے کہا کہ ایک ماہ قبل انہوں نے اپنے گھر کے دروازے اپنے طلباء کے لیے کھول دیے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر میں اس قت 20 بچے پڑھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ایمان ہے کہ تعلیم ایک اعلیٰ پیغام ہے اور یہ کہ ان کے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ ہم اپنے حقوق کی جنگ حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں مگر اس کا بوجھ طلبا پر نہیں پڑھنا چاہیے۔

والدین اور طلباء کا جوش و خروش

سوسن دیاب نے انہوں نے جیسے ہی یہ آئیڈیا ایک واٹس ایپ گروپ کے ذریعے طالب علموں کے اہل خانہ کو پیش کیا گیا، جن میں سے زیادہ تر پڑوسی اور رشتہ دار ہیں تو انہوں نےاسے فوراً قبول کرلیا۔ طلبا اور ان کے والدین سب بہت خوش ہوئے اور جوش وجذبے کے ساتھ انہوں نے بچوں کو ہمارے گھروں میں پڑھنے کے لیے بھیجنا شروع کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ طالب اتنے زیادہ نہیں۔ زیادہ تر ہمارے گھر کے قریب ہی رہتے ہیں۔ ایسے میں سوسن ان طلبا کو مفت میں اپنے گھرمیں انگریزی کی تعلیم دیتی ہیں۔

ان کی ساتھ معلمہ ھیفا بھی اپنے ہی گھر میں بچوں کو ریاض پڑھاتی ہیں۔ وہ خود بھی احتجاج کرنے والے اساتذہ میں شامل ہیں مگرانہوں نے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کا عزم کیا۔ سماجی اور عوامی حلقو کی جانب سے دونوں معلمات کی کاوش کو سراہا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں