اسرائیلی وزیر بن گویر کے قتل کا منصوبہ بنانے والے فلسطینی کی گرفتاری کا اعلان

مشتبہ شخص نے اسرائیلی وزیر کی نقل و حرکت کے متعلق معلومات اکٹھی کیں اور پڑوسی ملک سے رقم وصول کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر سلامتی امور ایتمار بن گویر نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے چند ہفتے قبل ایک فلسطینی کو گرفتار کیا ہے جو میرے قتل کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ وزیر نے ایک بیان میں کہا کہ پولیس نے داخلی سکیورٹی سروس ’’شن بیت ‘‘ کے تعاون سے القدس میں مقیم ایک عرب مشتبہ شخص کو حراست میں لیا جو ایتمار بن گویر کے قتل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مشتبہ شخص نے وزیر کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں اور پڑوسی ملک کے دہشت گرد عناصر سے اس کام کے عوض رقم حاصل کی۔ بیان میں پڑوسی ملک کی شناخت نہیں بتائی گئی۔

بیان میں وزیر کے حوالے سے کہا گیا کہ وہ بن گویر دائیں بازو کی سخت گیر سکیورٹی پالیسی کو بدستور آگے بڑھائیں گے تاکہ دہشت گردی کو شکست دی جا سکے اور سڑکوں پر سلامتی اور خودمختاری کو بحال کیا جا سکے۔ بین گویر انتہائی دائیں بازو کی "جیوش پاور" پارٹی کی قیادت کرتے ہیں۔ یہ پارٹی وزیر اعظم نیتن یاہو کی قیادت میں حکومتی اتحاد کا حصہ ہے۔ بن گویر کو ان کے انتہا پسندانہ اور متنازعہ بیانات کے لیے جانا جاتا ہے۔ وہ مغربی کنارے کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کی حمایت کرتے اور 1948 میں قائم کی گئی نام نہاد اسرائیلی ریاست میں مقیم اسرائیلی عربوں اور فلسطینیوں کی اولادوں کو بے دخل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

بن گویر ایک متنازعہ بل کی منظوری کے لیے سرگرم ہیں ۔ یہ بل اسرائیلیوں کی ہلاکت پر مبنی دہشت گردانہ حملوں کے مرتکب افراد کو کڑی سزا دینے کی تجویز دیتا ہے۔ اپنی جوانی میں بن گویر پر پچاس سے زیادہ مرتبہ تشدد بھڑکانے یا نفرت انگیز تقریر کرنے کا الزام لگایا جا چکا ہے۔

اسرائیلی اور فلسطینی اطلاعات کے مطابق اس سال کے آغاز سے تشدد اور تصادم نے 63 فلسطینیوں کی جانیں لے لی ہیں۔ ان شہید ہونے والے فلسطینیوں میں کچھ نابالغ بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف تصادم کےد وران تین بچوں اور ایک یوکرینی نژاد خاتون سمیت 11 اسرائیلی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے مشرقی القدس اور مغربی کنارے پر 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے۔ صہیونی ریاست کی مشرقی القدس میں قائم غیر قانونی بستیو ں میں لگ بھگ 4.75 لاکھ یہودی آباد کار مقیم ہیں۔ اسی طرح مغربی کنارے کی غیر قانونی بستیوں میں 29 لاکھ یہودی رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں