امریکا کی فلسطینی گاؤں حوارہ کے بارے میں اسرائیلی وزیر کے ’نفرت انگیز‘ بیان پر تنقید

محکمہ خارجہ کے اہلکار نے کہا کہ جس طرح ہم فلسطینیوں کو تشدد پر اکسانے کی مذمت کرتے ہیں، اسی طرح ہم ان اشتعال انگیز بیانات کی بھی مذمت کرتے ہیں جو تشدد پر اکسانے کے مترادف ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے بدھ کے روز اسرائیل کے وزیر خزانہ کی جانب سے فلسطینی گاؤں حوارہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے مطالبے اور "ناپسندیدہ، غیر ذمہ دارانہ اور نفرت انگیز" بیانات پر تنقید کی۔

ایک پریس بریفنگ کے دوران، اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ بتسلإيل سموتريچ کے ریمارکس "تشدد پر اکسانے" کے مترادف ہیں۔

سموتریچ نے ٹیلی ویژن پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ "حوارہ گاؤں کا صفایا کرنے کی ضرورت ہے۔ "میرے خیال میں اسرائیل کی ریاست کو یہ لازمی کرنا چاہیے،"

پرائس نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور دیگر حکومتی اراکین سے عوامی طور پر ان بیانات کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ہم فلسطینیوں کو تشدد پر اکسانے کی مذمت کرتے ہیں، اسی طرح ہم ان اشتعال انگیز بیانات کی بھی مذمت کرتے ہیں جو تشدد پر اکسانے کے مترادف ہیں۔

ماضی میں بھی بائیڈن انتظامیہ، سموتریچ اور اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بین غفیر کی انتہائی دائیں بازو کی پالیسیوں پر اختلاف کرتے رہے ہیں، جن میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کو پھیلانے کا عہد بھی شامل ہے۔

امریکہ نے نیتن یاہو حکومت جسے ملکی تاریخ کا انتہائی شدت پسند دور اقتدار سمجھا جاتا ہے ،پر زور دیا ہے اس اقدام کو آگے نہ بڑھایا جائے۔

اسرائیل میں نیتن یاہو کے سخت گیر اقدامات، سپریم کورٹ کو کمزور کرنے اور سیاست دانوں کو عدلیہ پر زیادہ اختیارات دینے کے خلاف ملک گیر احتجاج بھی جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں