کیا ایرانی طالبات کو زہر دینا "عورت، آزادی، زندگی" نعرے کا ردعمل ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران میں کئی مہینوں سے سیکڑوں طالبات کو زہر دینے کا معمہ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے اور شکوک و شبہات اور الزامات کی سطح بڑھ رہی ہے۔

17 ایرانی اسکولوں میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد کل بدھ کے روز اردبیل میں تقریباً 200 طالبات کی طبیعت خراب ہونے کے واقعے نے نئے شکوک کو جنم دیا ہے۔ سرکاری میڈیا نے بچیوں کو زہر دیے جانے کے نئے کیسز کی تصدیق کی ہے۔ دوسری طرف حکام کے ملوث ہونے کی طرف انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔ ایرانی حکام پر واقعے میں ملوث ہونے کا شبہ اس وقت اور تقویت اختیار کرگیا جب گذشتہ روز زہردیے جانے سے متاثرہ بچیوں کے والدین کے احتجاج کو کچلنے کے لیے طاقت کااستعمال کیا گیا۔

سزا کی شکل

ایرانی حزب اختلاف کے کارکن مسیح علی نژاد سمیت متعدد سماجی کارکنوں نے کہا ہے کہ طالبات پر حملہ کرنے والا یہ عجیب واقعہ سول نافرمانی کی سزا ہو سکتا ہے جو ماضی کے مظاہروں کے دوران یونیورسٹیوں اور سکولوں میں نمودار ہوئی تھی۔اس میں نعرہ لگایا گیا تھا کہ "عورت کو آزاد زندگی گزارنے کا حق ہے"۔یہ نعرہ پورے ملک میں پھیل گیا۔ یہ نعرہ اس وقت مشہور ہوا تھا جب پچھلے سال ستمبر کے وسط میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی پولیس کی حراست میں موت پورے ملک میں احتجاج کی لہر دوڑا دی تھی۔

دوسرے سماجی کارکنوں کا خیال ہے کہ زہر دینے کی اس مہم کا مقصد تعلیم کو روکنا یا طلبہ اور طالبات میں خوف پیدا کرنا ہو سکتا ہے۔

سوچا سمجھا حملہ

اس تناظر میں ہیومن رائٹس واچ کی ایرانی محقق تارا سپہری فار نے ’نیویارک ٹائمز‘ کو بتایا کہ "ایسا لگتا ہے کہ یہ سنگین حملے لڑکیوں اور ان کے خاندانوں میں خوف پیدا کرنے اور احتجاج میں حصہ لینے پر انہیں سزا دینے کی سوچی سمجھی کوشش ہیں۔"

نیویارک ٹائمز کے مطابق ایرانی خاتون سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ یہ رجحان "ایران میں اجتماعی صدمے اور اضطراب کومزید بڑھا رہا ہے۔"

بہت سے طلبا اور ان کے خاندانوں نے حکومت اور اس کی سکیورٹی فورسز کو بچیوں کو زہر دیے جانے پر مورد الزام ٹھہرایا۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ اس وقت سڑکوں پر آ کر احتجاج کر رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور ان کی بیٹیوں کے ساتھ کیا ہو گا۔ لوگ خوف زدہ ہیں اور انہیں اپنی بچیوں کے حوالے سے پریشانی ہے۔

چونکا دینے والی ویڈیوز

متعدد کارکنوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر خوفناک ویڈیوز پوسٹ کی ہیں جن میں بتایا گیا کہ سکیورٹی فورسز لوگوں کے ساتھ کس طرح پیش آتی ہیں۔

ایک ویڈیو کلپ میں پولیس دارالحکومت تہران کے مغرب میں واقع تہرانصار محلے میں "ابان 13" ہائی اسکول کے سامنے اپنی بیٹی کو زہر دینے کے خلاف احتجاج کرنے والی ماں کو مارتے اور گھسیٹتے ہوئے دیکھی جا سکتی ہے۔

مسیح علی نجاد کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے خاتون کو پکڑ کر زبردستی گاڑی میں ڈالا اور نامعلوم مقام پر لے گئے۔

خیال رہے کہ ایران میں اسکول کی بچیوں کو زہر دیے جانے کے خوفناک رحجان کے بعد پورے ملک میں عوام میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ اگرچہ ایرانی حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے مگر دوسری طرف بچیوں کو زہر دیےجانےکےخلاف احتجاج کو طاقت کے ذریعے کچلا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں