اسکول کی طالبات پر زہریلے حملوں کے پیچھے ایران کے ’دشمن‘ ہیں: رئیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ ایران میں طالبات پر زہریلے حملوں کی جاری لہر تہران کے "دشمنوں" کی طرف سے ملک کے اسکولوں میں خوف وہراس پیدا کرنے کی سازش ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا نے اس معاملے پر اپنے پہلے بیان میں صدر رئیسی کے حوالے سے کہا کہ "دشمن اسکولوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور عدم تحفظ ، خوف اور مایوسی کے ماحول کے ذریعے مختلف شعبوں میں افراتفری پھیلانا چاہتا ہے۔"

رئیسی نے کہا کہ انہوں نے محکمہ داخلہ اور انٹیلی جنس کو ان واقعات کی فوری تحقیقات کرنے کا کام کام سونپا ہے۔ تاکہ اس سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔

ایران کے وزیر صحت کے مطابق، حالیہ مہینوں میں ملک بھر کے مختلف اسکولوں میں سینکڑوں ایرانی لڑکیوں کو "ہلکے زہر" کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، کچھ سیاست دانوں کا خیال ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کے مخالف مذہبی گروہوں کی طرف سے انہیں نشانہ بنایا گيا ہے۔

پچھلے تین مہینوں میں ایران بھر میں سکول کی طالبات میں سانس کی تکلیف کے سینکڑوں واقعات رپورٹ ہوئے ہیں اور ایک سرکاری اہلکار نے کہا کہ زہر دینے کی کوشش ملک میں لڑکیوں کے سکولوں کو زبردستی بند کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

امریکی اور جرمنی نے زہریلے حملوں کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران سے ان واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

جمعرات کو، 21 طالبات کو کراج شہر میں ان کے ہاسٹل میں زہر دیے جانے کے بعد ہسپتال لے جایا گیا، جب کہ بدھ کے روز تہران اور اردبیل شہروں میں لڑکیوں کے کم از کم 10 اسکولوں کو زہریلے حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

کچھ ایرانیوں نے، جن میں سرکردہ کارکن بھی شامل ہیں، حکومت کو ان حملوں کے لیے مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مہسا امینی کی موت کے بعد پورے ایران میں پھیلنے والے مظاہروں کے پانچ ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد ہونے والی زہریلی کارروائیاں جان بوجھ کر کی گئی ہیں اور یہ احتجاج میں شرکت کرنے پر طالبات کے خلاف "انتقامی کاروائی ہیں۔

مہسا امینی 16 ستمبر کو تہران میں اخلاقی پولیس کے ہاتھوں خواتین کے لیے لباس کے قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار ہونے کے بعد انتقال کر گئی تھی۔ اس کی موت کے بعد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جن میں اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کے مطالبہ کیا جارہا ہے۔

ایران بھر میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں کی طالبات احتجاج میں شامل ہوئیں، سوشل میڈیا پر بہت سی ویڈیوز میں انھیں سر سے اسکارف اتارتے ہوئے اور بعض اوقات اسکولوں کے احاطوں میں حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں