فلسطینی گاؤں کو مٹانےکے اسرائیلی بیانات نسل پرستانہ ، مذمت کرتے ہیں: امارات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امارات نے فلسطینی گاؤں کو مٹانے کے اسرائیلی بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیانات نسل پرستانہ ہیں اور اس طرح کی نفرت انگیز تقاریر کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی وزیر خزانہ بیزا لیل سموٹریچ کے نسل پرستانہ بیانات کی مذمت کی۔ یاد رہے صہیونی وزیر خزانہ نے فلسطینی گاؤں حوارہ کو تباہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

وزارت خارجہ و بین الاقوامی تعاون نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات اخلاقی اور انسانی اقدار اور اصولوں سے متصادم تمام طریقوں کو مسترد کرتا ہے۔ وزارت نے نفرت انگیز تقریر اور تشدد کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کو کم کرنے کی کوششوں کے حصے کے طور پر رواداری اور انسانی بقائے باہمی کی اقدار کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

امارات کی وزارت نے مشرق وسطیٰ میں امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کی اور ساتھ ساتھ دو ریاستی حل کے لیے خطرہ بننے والے غیر قانونی طریقوں کو ختم کرنے اور 1967 کی جنگ سے قبل کی بنیاد پر اور مشرقی القدس کے بطور دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔

اسرائیل کے وزیر خزانہ اور انتہائی دائیں بازو کی مذہبی صہیونی جماعت کے رہنما بیزا لیل سموٹریچ نے بدھ کو مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک قصبے ’’ حوارہ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فلسطینی قصبے کو مٹا دینا چاہیے جہاں دو اسرائیلی بھائیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کے رد عمل میں اسرائیلی یہودیوں نے کارروائیاں شروع کردیں اور گھروں اور کاروں کو نذر آتش کردیا تھا۔ ان کارروائیوں میں کم از کم ایک فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں