عراق کو ہلا کر رکھ دینے والی ’’ صدی کی چوری‘‘ میں 4 اعلی حکام کے وارنٹ

ٹیکس سیکرٹریٹ سے 2.5 ارب ڈالر کی لوٹ مار کا کیس اکتوبر میں سامنے آیا، سابق وزیر خزانہ بھی چار ملزمان میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کچھ ماہ قبل ملک میں اربوں ٹیکس ریونیو کی لوٹ مار کے بعد عراق کو ہلا کر رکھ دینے والی "صدی کی چوری" کی تفصیلات کے بارے میں اب بھی حیرت انگیز باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ ہفتہ کو عراقی عدلیہ نے سابق وزیر خزانہ اور سابق وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی کے قریبی ساتھیوں سمیت 4 سابق اہلکاروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے۔ ان پر ٹیکس سیکرٹریٹ سے 2.5 بلین ڈالر کی رقم ضبط کرنے کا الزام لگایا گیا۔ اے ایف پی کے مطابق اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فیڈرل انٹیگریٹی کمیشن کے ایک عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ یہ چاروں اعلی حکام بیرون ملک ہیں ۔

فیڈرل انٹیگریٹی کمیشن نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ ٹیکس سیکرٹریٹ کی رقوم کو ضبط کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے الزام میں گزشتہ حکومت میں متعدد سینئر عہدیداروں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے اور تحقیقات شروع کرنے کا کہا گیا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ سابق وزیر خزانہ اور سابق وزیر اعظم کے دفتر کے ڈائریکٹر، ان کے پرسنل سیکرٹری کے ساتھ ساتھ ان کے میڈیا ایڈوائزر بھی ان چار افراد میں شامل ہیں۔ ان چاروں افراد کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے ضبط کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے تھے۔

سابق عراقی وزیر خزانہ علی علاوی
سابق عراقی وزیر خزانہ علی علاوی

تاہم کمیشن نے ان افراد کے نام نہیں بتائے۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ معاملہ سابق وزیر علی علاوی، سابق وزیر اعظم کے دفتر کے ڈائریکٹر رائد جوحی، پرائیویٹ سیکریٹری احمد نجاتی، اور کونسلر مشرق عباس سے متعلق ہے۔ خیال رہے کہ یہ کیس اکتوبر کے وسط میں سامنے آیا تھا۔ اس کیس میں سابق اعلیٰ حکام اور تاجر بھی شامل تھے۔ اس معاملہ نے عراق میں شدید بے اطمینانی کو جنم دیا تھا۔ تیل کی دولت سے مالا مال عراق میں بدعنوانی عروج پر ہے۔

خاص طور پر جنرل ٹیکس اتھارٹی کی جانب سے ایک دستاویز کے سامنے آنے کے بعد کہ ستمبر 2021 سے اگست 2022 کے درمیان پانچ کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ 247 چیکوں کے ذریعے 2.5 بلین ڈالر ادا کیے گئے۔ پھر یہ رقوم ان کمپنیوں کے کھاتوں سے نقدی میں نکلوائی گئیں۔ ان کمپنیوں کے مالکان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہیں۔ اگرچہ عراق کے تمام ریاستی اداروں میں بدعنوانی عروج پر ہے مگر ایسے معاملات میں بہت کم ٹرائل ہوتے ہیں۔ جن کیسز میں ٹرائل شروع بھی ہو تو معمولی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں