فلسطینی گاؤں "حوارہ" کو مٹانے کے اسرائیلی عہدیدار کے بیانات قابل مذمت ہیں: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی پریس ایجنسی ( ایس پی اے) کے مطابق سعودی وزارت خارجہ نے قابض اسرائیل کے عہدیدار کی جانب سے فلسطینی گاؤں ’’ حوارہ‘‘ کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالنے کے انتہا پسندانہ بیانات کی شدید مذمت کی ہے۔

وزارت نے تصدیق کی کہ سعودی عرب ان نسل پرستانہ اور غیر ذمہ دارانہ بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے جو قابض اسرائیلی ادارے کی طرف سے برادر فلسطینی عوام کے خلاف روا رکھے جانے والے تشدد اور انتہا پسندی کی آخری حدوں کو چھوتے نظر آرہے ہیں۔ سعودی وزارت خارجہ نے زور دیا کہ بین الاقوامی برادری سے مطالبہ ہے کہ اس حوالے سے وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے ۔ ان شرمناک طریقوں کو روکے ، کشیدگی کو کم کرائے اور شہریوں کو ضروری تحفظ فراہم کرے۔

19 ملکوں نے مذمت کردی

واضح رہے 19 ملکوں کے نمائندوں نے آج جمعہ کو مغربی کنارے کے فلسطینی قصبہ ’’حوارہ ‘‘ کا دورہ کیا اور گزشتہ اتوار کو سینکڑوں اسرائیلی آباد کاروں کی طرف سے کی جانے والی پر تشدد کارروائیوں کی مذمت کی۔ ان کارروائیوں میں ایک فلسطینی شہید اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔ یہودی آباد کاروں نے اپنے حملے میں بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کی املاک اور سینکڑوں گھروں کو تباہ کردیا تھا۔

19 ملکوں کے نمائندوں نے اپنا مشترکہ بیان القدس میں برطانوی قونصل خانے کے آفیشل ٹوئٹر کے ذریعہ جاری کیا۔ ان ملکوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم آباد کاروں کی طرف سے کی جانے والی پر تشدد اور گھناؤنی کارروائیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ہم قابض طاقت کے طور پر اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کو آباد کاروں کے تشدد سے بچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

دل دہلا دینے والی کہانیاں

جن ملکوں کے نمائندوں نے مشترکہ بیان پر دستخط کیے ان میں جرمنی، اٹلی، فرانس، ڈنمارک، جاپان، میکسیکو، ہالینڈ، ناروے، سپین، سویڈن، سوئٹزرلینڈ اور قبرص شامل ہیں۔

اپنی طرف سے برطانوی قونصل جنرل ڈیان کارنر نے کہا کہ انہوں نے اور دیگر ممالک کے نمائندوں نے ان فلسطینی باشندوں کی خوفناک کہانیاں سنی ہیں جن کے گھر اور املاک تباہ کر دئیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں