ایران اور ترکیہ کی جارحیت کو مسترد کرتے ہیں: عراقی وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی سرحدوں پر کسی بھی جارحیت کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے ہفتہ کے روز ’’العربیہ‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ حکومت نے سرکاری طریقہ کار کے ساتھ ترکیہ اور ایران کے حملوں کو مسترد کر دیا ہے۔ وفاقی سیکورٹی فورسز نے اربیل کے تعاون سے ایران اور ترکیہ کی سرحدوں کے ساتھ متصل علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوسرے ملکوں کی جانب سے عراق کی مخالفت پر امن اور غیر مسلح ہونی چاہیے۔

عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی نے مزید کہا کہ بغداد تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ ایک پہل کا مالک اور نقطہ نظر کے قریب ہے۔ ہم کسی بھی فریق کو عراق کے قومی مفاد کے خلاف جنگوں اور تنازعات میں ملوث کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

بدعنوانی اور اس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے محمد شیاع السوڈانی نے کہا ملک میں افسروں اور ملازمین کا ایک طبقہ ہے جو سیاسی قوتوں کے تحفظ میں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ میں کوئی سرخ لکیریں نہیں ہیں۔

عراقی پارلیمان سے
عراقی پارلیمان سے

صدری تحریک اور مہینوں سے سیاسی میدان سے میں اس کی ہچکچاہٹ کے حوالے سے انہوں نے امید ظاہر کی کہ صدر ی تحریک والے تمام سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے صدری تحریک کے پارلیمنٹ سے دستبرداری کے فیصلے کو بھی افسوس ناک قرار دیا۔

انہوں نے پارلیمنٹ میں تبدیلی کے امکان کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کے لیے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کی ضرورت ہے لیکن فیصلہ سیاسی بلاکس کے ہاتھ میں ہے۔ حکومت انتخابات کے انعقاد کے لیے تیار ہے۔ واضح رہے محمد شیاع السوڈانی کی حکومت کو ملک میں پارلیمانی انتخابات کے تقریباً ایک سال بعد گزشتہ اکتوبر 2022 میں اعتماد دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں