سعودی عرب میں’’ الحسا ترکض‘‘ ریس کا انعقاد ، 6 کیٹگریز میں 10 ہزار افراد شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں الاحسا کے گورنر شہزادہ سعود بن طلال بن بدر نے ہفتہ کے روز ’’ الحسا ترکض‘‘ ریس کا آغاز کردیا۔ ریس میں سعودی عرب کے تمام خطوں ، خلیجی ریاستوں اور دنیا کے تمام حصوں سے 10 ہزار مرد و خواتین شرکت کر رہے ہیں۔ اس ریس، جسے خطے میں کھیلوں کا سب سے بڑا ایونٹ سمجھا جاتا ہے، کو وزارت کھیل، وزارت صحت، پولیس اور ٹریفک اور سعودی ریڈ کریسنٹ اتھارٹی کی تنظیمی شراکت کے ساتھ منعقد کیا گیا ہے۔

اس موقع پر شہزادہ سعود نے معاشرے میں کھیلوں کی مشق کے کلچر کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا اور بتایا کہ اس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ ریس معیار زندگی کے پروگرام کے حصے کے طور پر شروع کی گئی ہے اور مملکت کے ’’ویژن 2030 ‘‘ کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک کی نمائندگی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا متاثر کن کھیلوں کے اقدامات کا مقصد کمیونٹی کے ارکان کی حفاظت اور ورزش کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔کھیلوں کی مشق کرنا اور صحت مند طرز زندگی کو اپنانا صحت بخش رویے کو فروغ دیتا ہے۔

شہزادہ سعود بھی الحسا ترکض ریس میں شریک ہیں
شہزادہ سعود بھی الحسا ترکض ریس میں شریک ہیں

الاحساء کے گورنر نے مقابلہ کرنے والو ں کو انعامات تقسیم کیے۔ ’’ الحسا ترکض‘‘ ریس میں 6 کیٹگریز کے تحت دوڑ کا مقابلہ ہوا۔ ہر کیٹگری میں مرد اور خواتین دونوں شامل تھے۔ یہ چھ کیٹگریز مختلف عمروں کے حساب سے قائم کی گئی تھیں۔ ریس میں الاحسا کے سیکرٹری عصام الملا اور سرکاری اداروں کے متعدد ڈائریکٹرز، نجی شعبے کے افراد اور تاجر کمیونٹی کے افراد بھی شریک تھے۔ الشعبہ پارک کے ارد گرد ایک پرجوش ماحول تھا۔ امیچور زمرے میں 6 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔

12 کلومیٹر پروفیشنل کیٹگری کے لیے "الحسا ترکض" ریس کے نتائج کے نتیجے میں سمیر جوہر نے پہلی پوزیشن اور کار کا انعام کیا۔ دایت ادماسی دوسرے اور انور الغوث تیسرے نمبر پر رہے۔ جہاں تک خواتین کی ریس کا تعلق ہے اس میں شرکا کی تعداد 2,000 سے تجاوز کرگئی۔ انہوں نے 6 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد پہلے نمبر پر آکر پونٹے ریبوٹیو نے کار جیت لی۔ فیٹوما مبارکی دوسرے نمبر پر اور مریم عوادی تیسرے نمبر پر آئیں۔

الحسا ترکض ریس  میں نوجوان
الحسا ترکض ریس میں نوجوان

خوشگوار مناظر میں ماؤں اور سرپرستوں کی حوصلہ افزائی کی آوازوں کے درمیان بچوں کی ریس کا آغاز ہوا۔ 6 کلومیٹر کی اس ریس میں راید الجدعانی پہلے نمبر پر آئے۔ صالح الشیبانی نے دوسری پوزیشن حاصل کی اور وسام الفاربی تیسرے نمبر پر رہے۔ 55 سال سے زائد عمر کے بزرگوں نے ریس میں اپنی مہربان موجودگی کا مظاہرہ کیا اور یہاں بھی تین افراد نے پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر آکر نمایاں حیثیت اختیار کی۔

تاج پوشی کی تقریب کے دوران مارکیٹنگ اور کمیونٹی پارٹنرشپ کی ڈائریکٹر اور "الحسا ترکض" ریس کی آرگنائزنگ کمیٹی کی جنرل سپروائزر سارہ الموسی نے کہا کہ اس کے پانچویں ایڈیشن میں ریس کے ذریعے ہم نے دوڑ کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ ہم اس عظیم شعور کو بیدار کر رہے ہیں کہ کھیل بیماریوں اور فالج سے بچنے کا ایک ذریعہ ہے۔ فالج سعودی عرب میں موت کی دوسری سب سے بڑی وجہ ہے۔

الحسا ترکض ریس  میں بچے
الحسا ترکض ریس میں بچے

ایگزیکٹو ڈائریکٹر مالک الموسی نے کہا کہ ہم نے اپنا نعرہ "ہم وقت کے خلاف دوڑ رہے ہیں" کا آغاز کیا تاکہ فالج کے مریضوں کی مدد کی جا سکے اور معاشرے کے تمام افراد کو فالج کے علاج میں وقت کے عنصر کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں