نیتن یاہو نےایران پر ممکنہ حملے کے خلاف آئی اے ای اے کے سربراہ کابیان مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیل یا امریکا کا کوئی بھی حملہ غیرقانونی ہوگا۔

ویانا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے چیئرمین رافیل گروسی نے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015ء کے جوہری معاہدے کی تجدید پر جاری تعطل کو کم کرنے کے لیے تہران کا دورہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ جوہری تنصیبات پر کوئی بھی فوجی حملہ غیرقانونی ہے۔

وہ ایک صحافی کے اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ اسرائیل اورامریکاکی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پرحملہ کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اوریہ کہا جارہا ہے کہ اگر انھوں نے یہ سمجھا کہ سفارت کاری ناکام ہوگئی ہے تو وہ ایران کے بم کو ختم کرنے کے لیے حملہ کرسکتے ہیں جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز ٹیلی ویژن پراپنی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’رافیل گروسی ایک قابل شخص ہیں مگرانھوں نے نامناسب تبصرہ کیا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’یہ حملہ کس قانون سے باہر ہے؟کیا ایران، جو کھلے عام ہماری تباہی کا مطالبہ کرتا ہے،اس کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ ہماری تباہی کے لیے ذبیحہ کے اوزارتیارکرے؟ کیا ہمیں اپنا دفاع کرنے سے منع کیا گیا ہے؟ ظاہر ہے کہ ہمیں ایسا کرنے کی اجازت ہے‘‘۔

آئی اے ای اے نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ گروسی کو ایران کی جانب سے واضح یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ غیرعلانیہ مقامات پرپائے جانے والے یورینیم کے ذرّات کی تحقیقات میں مدد کرے گا اورجوہری تنصیبات سے ہٹائے گئے نگرانی کے آلات دوبارہ نصب کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں