یورپی ممالک کا مغربی کنارے میں کشیدگی کم کرنے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک مشترکہ بیان میں فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، برطانیہ اور اسپین کے وزرائے خارجہ نے "مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تشدد کے تسلسل اور شدت پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔"

وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ہم حالیہ دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں جو اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کا سبب بنے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کی طرف سے کیے جانے والے اندھا دھند تشدد کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں" انہوں نے مزید کہا کہ "ان تمام کارروائیوں کے مرتکب افراد کو جوابدہ ہونا چاہیے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔"

یورپی ممالک کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہ جب فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں اور مقبوضہ یروشلم میں حالیہ دنوں میں خون خرابے میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خیال رہے کہ دریائے اردن کے مغربی کنارے پر اسرائیل نے سنہ 1967ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ میں قبضہ کرلیا تھا۔

اتوار کے روزاسرائیلی آباد کاروں کی طرف سے فلسطینی قصبے حوارہ پر حملہ کیا گیا۔ اس کارروائی سے چند گھنٹے قبل حوارہ ہی میں فلسطینیوں کے حملے میں دو یہودی آبادکار ہلاک ہوگئے تھے۔

بیان پر دستخط کرنے والوں نے تمام متحارب فریقوں پر زور دیا کہ وہ "عقبہ اجلاس میں کیے گئے وعدوں کو پورا کریں اور قول و فعل میں تناؤ کو کم کریں۔"

اسرائیلی اور فلسطینی حکام نے 26 فروری کو اردن میں امریکا کی سرپرستی میں ہونے والی میٹنگ کے دوران "کشیدگی کم کرنے" پر کام کرنے کا عہد کیا تھا۔

یورپی وزراء نے لکھا ہے کہ "ہم ان تمام یکطرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کا اعادہ کرتے ہیں جو فلسطین اسرائیل تنازع کے دو ریاستی حل کو خطرے میں ڈالنے کا باعث رہے ہی۔

انہوں نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں 7000 سے زائد ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کی منظوری کے اپنے حالیہ فیصلے کو واپس لے اور غیر قانونی بستیوں کو قانونی شکل دینے سے باز رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں