"العربیہ" دنیا بھر میں میڈیا کی ساکھ سے وابستہ اہم نام بن گیا : ولید آل ابراہیم

سعودی عرب میں ہیڈ کوارٹرز کی منتقلی کے بعد نئے نیوز روم سے نشریات ڈیجیٹل توسیع، مصنوعی ذہانت اور عالمی قیادت کے نئے مرحلہ کی نشاندہی کرتی ہیں: چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز ایم بی سی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

’’العربیہ‘‘ نیوز چینل نے دو دہائی قبل 3 مارچ 2003 کو اپنے آغاز پر ’’ زیادہ جانیے‘‘ کا جو نعرہ بلند کیا تھا ، اپنی بیسویں سالگرہ کی تقریبات میں بھی اسی نعرے پر کاربند رہنے کی بات کر رہا ہے۔ چینل آج پیشہ ورانہ حقیقت پسندی سےاپنی وابستگی پر فخر کا اظہار کر رہا ہے۔ غیر جانبداری پر زور دینے کے ساتھ چینل کی نشریات دیانتداری اور اعتبار، ذمہ دارانہ الفاظ، سچائی، خبر اور آزادی اظہار رائے کا نمونہ بن گئی ہیں۔

دو دہائی قبل اس وقت نوزائیدہ چینل کی نشریات کا آغاز بہت بڑی تاریخی اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ ہوا تھا عرب عرب خطہ اور دنیا میں وقوع پذیر ہو رہی تھیں۔ ان تبدیلیوں میں سب سے نمایاں عراق کے خلاف جنگ تھی۔ ’’العربیہ ‘‘ نے پریس کے عملے کے ساتھ ان واقعات کا بھرپور احاطہ کیا۔ ایک نوجوان ادارتی ٹیم نے ان واقعات کی کوریج کی اور پہلے دن سے ہی مؤثر قابلیت کے ساتھ کام شروع کردیا۔

گزشتہ دہائی کے دوران ’’العربیہ‘‘ نے شام، لیبیا اور یمن کی جنگوں کے واقعات کو دلائل سے رپورٹ کیا۔ مصر میں سیاسی تحریک، لبنان، ایران، ترکی اور دیگر دارالحکومتوں میں عوامی تحریک کی براہ راست کوریج کی۔ خطے اور دنیا بھر کے ملکوں میں پیش آنے والے واقعات پر نشریات کیں۔ کورونا کی وبا اور افغانستان سے امریکی انخلا، کاراباخ کی لڑائی ، یوکرین میں جنگ، عالمی توانائی کے بحران، سپلائی چین کے بحران پر نشریات کیں۔ اسی طرح متوازی طور پر مالیاتی اور اقتصادی کوریج اور عرب اور بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹ کی خبروں کے حوالے سے بھی ’’العربیہ ‘‘ نے نمایاں نام کمایا۔

نشریات کے 20 سال مکمل ہونے کے حوالے سے "ایم بی سی گروپ" اور "العربیہ" کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ولید بن ابراہیم آل ابراہیم نے وضاحت کی ہے کہ "العربیہ" نے اگلے مرحلے کے لیے ایک نئی حکمت عملی اپنائی ہے جس کے خدوخال واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ گروپ کا ہیڈ کوارٹرز سعودی دارالحکومت ریاض منتقل ہو گیا ہے ۔ "العربیہ" کی براہ راست نشریات کا آغاز ریاض سے ہو چکا اور وہاں سے دنیا بھر کے لیے نئی خبریں سامنے لائی جارہی ہیں۔

ولید بن ابراہیم آل ابراہیم نے مزید کہا کہ ریاض سے نشریات ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ جن کے سب سے نمایاں عنوانات ڈیجیٹل توسیع، مصنوعی ذہانت، علاقائی قیادت کا تسلسل اور عالمی قیادت کی طرف بڑھنے کارجحان ہے۔

آل ابراہیم نے مزید کہا کہ "العربیہ" نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران افقی اور عمودی توسیع پر کام کیا ہے۔ اسے ایک مربوط نیوز نیٹ ورک میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ اس کا نام دنیا بھر میں میڈیا کی ساکھ، خبروں کی غیرجانبداری اور تکنیکی ترقی سے جڑا ایک سنگ میل ہے۔ یہ وہی چیز ہے جسے ہم 2003 میں "العربیہ" کے آغاز کے بعد سے تلاش کر رہے ہیں۔

ممدوح المھینی
ممدوح المھینی

’’العربیہ نیوز نیٹ ورک‘‘ کے ڈائریکٹر جنرل ممدوح المھینی نے اپنے اظہار خیال میں کہا ہے کہ "اپنے بیس سالوں کے دوران ’’العربیہ‘‘ نے خبروں کے ساتھ رابطے میں رہنے والے صحافیوں اور تکنیکی ماہرین کی ایک ٹیم کے ساتھ خبروں کا ایک قابل اعتماد ذریعہ بننے کے لیے کام کیا ۔ چینل نے دنیا بھر کے واقعات کو عرب ناظرین تک پیشہ ورانہ مہارت سے پہنچایا ۔ المھینی نے مزید کہا کہ "العربیہ" عرب دنیا اور دنیا بھر میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ رفتار برقرار رکھنے میں پوری طرح کامیاب رہا ہے۔ یہ چینل چوبیس گھنٹے نیوز سروس فراہم کرنے کے معاملے میں عوام کی ضروریات پورا کرنے میں بھی کامیاب رہا۔ اس نے ان جدید ترین ٹیکنالوجیز کو اپنایا جن کی میڈیا کی صنعت مشاہدہ کر رہی تھی۔ چینل ہر جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کے لیے یہ ہمیشہ سرگرم رہا ۔ چینل کے سرکردہ افراد پہلے دن سے ہی ایک پیشہ ورانہ حکمت عملی تیار کرنے کے خواہاں تھے جو اس کے آلات کو مسلسل تیار کرنے اور ترقی دینے کے قابل ہو۔ مقصد ہمیشہ سے یہی تھا اور اور اب بھی یہی ہے کہ ’’ العربیہ ‘‘ علاقائی سرحدوں کو عبور کرکے کام کرے تاکہ دنیا بھر میں ہر جگہ خبروں کا ایک قابل اعتماد ذریعہ بن سکے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ تکنیکی سطح پر "العربیہ" خبروں کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں پیش پیش رہا ۔ اس نے 2018 میں خطے میں "العربیہ پروجیکٹ برائے مصنوعی ذہانت" کا آغاز اس وقت کیا جب اس نے ورچوئل صحافی "تمارا" کی پیدائش کا اعلان کیاجو نیوز روم میں کام کرتی ہے۔ ’’ تمارا‘‘ مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر معلومات اکٹھا کرنے، درجہ بندی کرنے اور تجزیہ کرنے کے شعبے میں کام کرتی ہے۔ بعد میں گزشتہ برس 2022 کے آخر میں العربیہ نے ایک ایسے ورچوئل براڈکاسٹر کا ایک مربوط ڈیجیٹل سمولیشن پیش کیا جو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کے ساتھ کام کرتا ہے۔ یہ خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔

ڈیجیٹل دنیا میں توسیع

العربیہ نیوز گروپ میں آج ’’العربیہ ‘‘ چینل کے علاوہ ’’ الحادث‘‘ چینل بھی شامل ہے جو چوبیس گھنٹے نیوز بلیٹن فراہم کرتا ہے۔ اس کی چھتری تلے متعدد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز موجود ہیں۔ اس کے ساتھ خطے میں معروف پوڈ کاسٹ سروس بھی ہے جس کے دنیا بھر میں لاکھوں فالوورز ہیں ۔

اس تناظر میں ممدوح المھینی نے وضاحت کی کہ آج سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’’ العربیہ نیٹ ورک‘‘ کے فالوورز کی تعداد تقریباً 180 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ ایڈیٹوریل ٹیم اور چینل کے نامہ نگاروں کی طرف سے تیار کردہ مواد ہر ماہ ایک ارب سے زیادہ آراء ریکارڈ کر رہا ہے۔ ’’ العربیہ‘‘ عرب دنیا اور خطے میں اپنے عالمی ہم منصبوں سے آگے ہے۔

گزشتہ مہینوں کے دوران العربیہ نے عمان میں ورلڈ سوشل میڈیا فورم میں چار ایوارڈز جیتے ہیں جن میں مشرق وسطیٰ میں "بہترین پوڈ کاسٹ سروس" کا ایوارڈ بھی شامل ہے۔ العربیہ نے دبئی میں منعقدہ براڈکاسٹ پرو ایوارڈز میں بصری بیان میں ایکسی لینس کے لیے ایڈیٹرس چوائس ایوارڈ بھی جیتا۔ عرب اور علاقائی فورمز میں چینل کے پروگراموں اور میڈیا کے پیشہ ور افراد نے متعدد ایوارڈ جیتے ہیں۔ "العربیہ" پر بہت سے بین الاقوامی نیوز نیٹ ورکس کا انحصار بڑھ گیا ہے۔ ’’ العربیہ‘‘ عرب دنیا کی خبریں دنیا بھر میں پہنچانے کے لیے ایک قابل اعتماد ذریعہ بن چکا ہے۔

بیسویں سالگرہ اور العربیہ کا نیا نعرہ
بیسویں سالگرہ اور العربیہ کا نیا نعرہ

بیس سال اور زیادہ کانیا نعرہ

"العربیہ" کی بیسویں سالگرہ کا نعرہ "بیس سال اور زیادہ" اپنایا گیا ہے۔’’العربیہ‘‘ نے حال ہی میں دنیا کو پیش آنے والے بڑے واقعات سے ہم آہنگ رہنے میں اپنی برتری ثابت کی ہے۔ جیسے اس نے سال 2020 کے آغاز میں کورونا کی وبا کا احاطہ کیا ، اس کی متعدد تحقیقات اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ خصوصی مکالمے نے اس کو دیگر پر فوقیت دے دی۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان سے امریکی انخلا اور طالبان تحریک کے کنٹرول کے واقعات کی رپورٹنگ میں اس کا نمایاں کردار رہا ۔ چینل نے یوکرین روس کی جنگ کی غیر جانبدار کوریج کی۔یوکرینی روسی خبریں غیر جانبدار اور معروضی طور پر رپورٹ کی گئیں اور دونوں ملکوں کے حکام کے ساتھ بات چیت کی گئی۔ خطے اور دنیا میں جنگوں اور آفات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انسانی صورتحال کی مسلسل نگرانی میں بھی ’’ العربیہ‘‘ نمایاں رہا۔

ممدوح المھینی نے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو بیان کرتے ہوئے مستقبل کے متعلق بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا ہم نے "العربیہ" کے آغاز کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر ایک نعرے کے طور پر "بیس سال اور زیادہ" کا نعرہ بلند کیا ہے۔ اس نعرے کے ذریعے ہم چاہتے تھے کہ اس بات کی نشاندہی کی جائے کہ چینل کی ہر سطح پر ترقی اور توسیع کی کوئی سرحد نہیں ہے ۔ خاص طور پر سعودی عرب کے مرکز سے "العربیہ" نیوز آپریشنز کے آغاز اور دارالحکومت ریاض میں ہمارے نئے اسٹوڈیوز کے اندر سے نشریات کے آغاز کے بعد سے چینل ترقی اور جدیدیت پر مبنی موا د تیار کر رہا اور اسے فنکارانہ اور تکنیکی انداز میں پیش کر رہا ہے۔ اس حوالے سے ’’ العربیہ‘‘ بڑے بین الاقوامی نیوز سٹیشنوں پر بھی سبقت لے گیا ہے۔

المھینی نے نشاندہی کی کہ ’’العربیہ نیٹ ورک‘‘ نوجوان ایڈیٹرز اور صحافیوں کی طرف سے تیار کردہ معیاری مواد کو جدید ترین ٹیکنالوجیز اور ذرائع کے ساتھ فراہم کر رہا ہے ۔ یہ علم اور خبروں کو ایسے جدید انداز میں پیش کرتا ہے جو نئی نسل کی ضروریات اور طرز زندگی کے لیے موزوں ہوتا ہے۔

’’العربیہ نیوز نیٹ ورک‘‘ کے ڈائریکٹر جنرل ممدوح المھینی نے اس دوران اپنے ان ساتھیوں کو بھی یاد کیا جنہیں "قابل اعتبار اور غیر جانبدارانہ خبروں کے شہداء" کے طور پر یاد کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا یہ وہ افراد ہیں جنہوں نے میڈیا کی پیشہ ورانہ مہارت کی قیمت اپنی جانوں سے ادا کی ہے۔ انہوں نے جنگوں اور تنازعات کے دوران زمین پر موجودگی کی قیمت جان دے کر ادا کردی۔ یہ موقع ان ساتھیوں اور ان کی ارواح کے لیے دعا کرنے کا ہے جنہیں ’’العربیہ‘‘ نے اپنے سفر کے دوران کھو دیا۔ ہم ان کی روحوں اور ان کے اہل خانہ سے کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ اور ہمارے دلوں میں رہیں گے ۔ خاص طور پر جب ہم اس موقع کی یاد منا رہے ہیں تو ہم ان ساتھیوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس دوران مشکلات کا سامنا کیا ۔ ان میں سے کچھ اغوا ہوئے، کچھ قید ہوئے، اور کچھ زخمی ہوئے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خطرات میں بھی العربیہ کے ’’ مزید جاننے کے لیے‘‘ کے پیغام پر یقین رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں