اسرائیلی صدر کی عدالتی اصلاحات پرسمجھوتے کے لیے کوششیں ؛مارکیٹوں میں وقتی تیزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل کے صدر اسحاق ہرتصوغ نے پیر کے روز کہا ہے کہ حکومت کے عدالتی اصلاحات کے منصوبے پرسمجھوتا ناگزیرہے۔ان کے اس بیان سے مالیاتی منڈیوں میں وقتی تیزی آئی ہے جبکہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان فوری طور پر کسی معاہدے کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔

اسرائیل میں ان عدالتی اصلاحات کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور مقامی ذرائع ابلاغ نے فضائیہ کے 10 سابق سربراہوں کی جانب سے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کولکھا گیاایک خط نشر کیا ہے۔اس میں عدالتی اصلاحات کے منصوبے سے پیدا ہونے والے 'سنگین اور ٹھوس' خطرات کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔

اگرچہ اسرائیل میں صدر ایک رسمی عہدہ ہے ، لیکن ہرتصوغ نے 100 اداروں ومحکموں کے سربراہان کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے تاکہ ملک کو تقسیم کرنے اور ملک گیر مظاہروں کا سبب بننے والی عدالتی تجاویز کا کوئی حل پیش پیش کیا جاسکے۔

اسرائیلی صدر نے کہا کہ ’ہم ایک متفقہ خاکاکےامکان کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں‘۔انھوں نے تفصیل بتائے بغیر کہا کہ زیادہ تر معاملات پر پردے کے پیچھے معاہدے ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اب یہ حکمراں اتحاد اور حزب اختلاف کے رہنماؤں پرمنحصر ہوگا کہ وہ ملک اور شہریوں کو ہرچیزپرمقدم رکھیں اور اس پر عمل درآمد کریں۔

حزب اختلاف کے سربراہوں یائر لاپیڈ اور بینی گینز نے اس کے جواب میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں صدر کی جانب سے سمجھوتے تک پہنچنے کی کوششوں کو سراہا گیا لیکن مطالبہ کیا گیا کہ نیتن یاہو قانون سازی کے عمل کو روکیں تاکہ ’’ایماندارانہ اور مؤثر مکالمے" کوموقع دیا جا سکے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ اسرائیل قومی ایمرجنسی کے دہانے پر ہے اور نیتن یاہو رکنے سے انکار کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو نے فوری طور پر ہرتصوٖغ کی کوششوں کا جواب نہیں دیا۔اسرائیلی صدرنے گذشتہ ماہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے ایک سمجھوتے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔انھوں نے بحران کو’آئینی زوال‘ قرار دیا تھا۔

اسرائیلی پارلیمان مجوزہ عدالتی اصلاحات کی پہلے ہی ابتدائی منظوری دے چکی ہے،ان کے نفاذ سے حکومت کو ججوں کے انتخاب پر زیادہ اختیار مل جائے گا اور قانون سازی کو ختم کرنے کے سپریم کورٹ کے اختیارات محدود ہوجائیں گے۔

مجوزہ ترمیمی بل کے ناقدین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کررہے ہیں جن سے اسرائیل کے جمہوری توازن کونقصان پہنچے گا، بدعنوانی کو فروغ ملے گا اور سفارتی تنہائی آئے گی۔اس کے حامیوں کاکہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کی ضرورت اس مقصدکے لیے ہے کہ وہ سیاست میں مداخلت کرنے والی ایک سرگرم عدلیہ کو روک سکیں۔

لاپیڈ نے سمجھوتے پر بات چیت اور قانون سازی کو 60 دن کے لیے منجمد کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ بغیر کسی پیشگی شرائط کے صرف مذاکرات پر رضامند ہوں گے۔

جنوری کے آخرمیں جب سے یہ تجاویز پیش کی گئی ہیں، ڈالر کے مقابلے میں اسرائیلی شیکل کی قدرمیں گراوٹ آئی ہے، جس سے سرمایہ کاروں نے اس خدشے کا اظہارکیا ہے کہ اسرائیل ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی طویل ہوتی اس فہرست میں شامل ہو سکتا ہے جو فیصلہ سازی میں زیادہ آمرانہ موقف اختیار کررہی ہیں۔

گذشتہ ہفتے تک، صرف ایک ماہ میں امریکی کرنسی کے مقابلے میں شیکل قریباً 10 فی صد گر چکا تھا، اور تین سال کی کم ترین سطح پرتجارت کررہا تھا۔

سمجھوتے کے بارے میں امید نے پیرکو شیکل کو 2 فی صد اضافے کے ساتھ 3.59 فی ڈالر پر پہنچا دیا جو 21 فروری کے بعد سے اس کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح تل ابیب میں بازارِحصص کے انڈیکس میں 1.5 فی صد اضافہ ہوا اور حکومتی بانڈز کی قیمتوں میں بھی ایک فی صد اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں