اسرائیل نے مغربی کنارے اور غزہ کے ساتھ سرحدی گزرگاہیں دو دن کے لیے بند کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی اخبار "ٹائمز آف اسرائیل" نے فوج کے حوالے سے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں کی بندش کا اعلان کیا ہے۔ یہ گذرگاہیں آج سوموار اور بدھ کی نصف شب یہودیوں کے مذہبی تہوار کی تعطیلات کے سلسلے میں بند رہیں گی۔

فوج نے کہا کہ یہ بندش پیر کی شام 5 بجے شروع ہونے والی تھی اور بدھ کی آدھی رات تک جاری رہے گی، لیکن اس میں یہ بات نوٹ کرنے والی ہے کہ فلسطینیوں کے لیے سرحدی گزرگاہوں کو کھولنا "صورتحال کے جائزے سے مشروط" ہے۔

حکام نے مزید کہا کہ بندش کے فیصلے سے انسانی بنیادوں پر اور دیگر ہنگامی صورت حال کے کیسز کو شامل نہیں کیا گیا۔ کسی ہنگامی اورانسانی کیس کی صورت میں گذرگاہوں کو کھولا جا سکتا ہے، تاہم ایسی کسی بھی صورت میں وزارت دفاع کے رابطہ کار کی منظوری درکار ہے۔

اردن کے فرمانروا اور لائیڈ آسٹن
اردن کے فرمانروا اور لائیڈ آسٹن

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم نےاتوار کو امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے ساتھ ملاقات میں فلسطینی علاقوں میں "امن بحال کرنے اور کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت" پر زور دیا۔

اردن کے شاہی دربار کے ایک بیان میں شاہ عبداللہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ "ایسے یکطرفہ اقدامات کو روکیں جو استحکام کو غیر مستحکم کرتے ہیں اور امن کے حصول کے امکانات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔"

ملاقات کے دوران اردن کے بادشاہ نے سیاسی ماحول پیدا کرنے کی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان دو ریاستی حل پر مبنی منصفانہ اور جامع امن تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی راہ ہموار کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں