آسٹن کے دورہ سے قبل اسرائیلی وزیر نے القدس میں گھرو ں کی مسماری کا حکم دیدیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل کے داخلی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے اپنے ملک کی افواج کو ماہ رمضان کے دوران مقبوضہ مشرقی القدس میں فلسطینیوں کے گھرو ں کو مسمار کرنے کا عمل جاری رکھنے کا حکم دے دیا ۔ فلسطین نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ جارحیت تنازعہ بھڑکانے کا باعث بن جائے گی۔

داخلی سلامتی کے اسرائیلی وزیر کے بیانات امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے اسرائیل کے آئندہ دورے سے قبل سامنے آئے ہیں۔ آسٹن نے دورہ اردن میں خطے کو پرامن بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے ’’مکان‘‘ کے مطابق بن گویر کا یہ اقدام غیر قانونی عمارتوں کی مسماری کو روکنے کے فیصلے کے باوجود سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی قانون کے مطابق مقبوضہ مشرقی القدس میں خاص طور پر رمضان کے مہینے میں کشیدگی کو روکنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔

تاہم بن گویر نے اس فیصلے کو منسوخ کرنے کا حکم جاری کردیا اور اب پولیس رمضان المبارک میں بھی سکیورٹی خطرات کے باوجود بن گویر کی ہدایت پر عمل کرے گی۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے حال ہی میں سیکورٹی سروسز کے سربراہوں کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ جس کی وجہ سے سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ نے متفقہ طور پر قانون پر عمل درآمد کو روک دیا۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے نے کہا کہ صہیونی وزیر کے احکامات میں جرمانے عائد کرنا اور بغیر اجازت تعمیر کی گئی عمارتوں کو مسمار کرنا شامل ہے۔

اور اسرائیلی فوج کے حکام نے حالیہ ہفتوں میں خبردار کیا ہے کہ اس سال رمضان کے مہینے میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ سال کے آغاز سے ہی باہمی حملوں میں دونوں طرف سے ہلاکتوں کی وجہ سے پہلے ہی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے اسرائیلی وزیر کے بیانات کی مذمت کی اور واضح کیا کہ اسرائیلی وزیر نے تصادم کے میدان میں صورت حال کو مزید بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ خاص طور پر بن گویر نے القدس میں رمضان کے مقدس مہینے میں فلسطینی شہریوں کے گھروں کی مسماری کے بارے میں فخر کا اظہار کیا ہے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں