امریکہ کا اقوام متحدہ سے ایرانی طالبات کو زہر دینے کی تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

وائٹ ہاؤس نے سوموار کو اعلان کیا ہے کہ ایران میں اسکول کی طالبات کو زہر دینے کے نئے واقعات کی تحقیقات کے لیے اسلامی جمہوریہ میں اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے ذریعے کی جانی چاہیے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے کل پیر کے روز ایرانی اسکول کی طالبات کو گذشتہ چند مہینوں کے دوران زہر دیے جانے کو ایک "ناقابل معافی" جرم قرار دیا ہے جس کی سزا پہلے سے طے شدہ ثابت ہونے پر سزائے موت دی جانی چاہیے۔

سرکاری ٹیلی ویژن نے خامنہ ای کے حوالے سے کہا کہ حکام کو اسکول کی طالبات کو زہر دینے کے معاملے کی سنجیدگی سے پیروی کرنی چاہیے۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ پہلے سے سوچا سمجھا منصوبہ تھا تو اس ناقابل معافی جرم کے مرتکب افراد کو موت کی سزا ملنی چاہیے۔"

ایران میں گذشتہ تین مہینوں کے دوران درجنوں تعلیمی مراکز بالخصوص مقدس شہر قم میں سینکڑوں سکول کی طالبات کوزہریلی گیس سے نشانہ بنانے کی خبریں آئی ہیں۔

وسطی ایران کے شیعہ مقدس شہر قُم میں نومبر میں شروع ہونے والے زہر کے واقعات کے بعد ملک کے 31 میں سے 25 صوبوں تک پھیل چکے ہیں۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 16 ستمبر کو 22 سالہ ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے ایران میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ایرانی پولیس نے امینی کو اسلامی جمہوریہ کے سخت لباس کوڈ کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرن جین پیئر نے کہا کہ "اگرزہر خورانی کا تعلق مظاہروں میں شرکت سے ہے، تو یہ تحقیقات اقوام متحدہ کے ایران پر آزاد بین الاقوامی فیکٹ فائنڈنگ مشن کے دائرہ اختیارمیں ہونا چاہیے ہے۔"

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے اپنی روزانہ کی پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ "ایک قابل اعتماد، آزاد تحقیقات ہونی چاہیے اور ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں