ایران: طالبات کو زہر دینے کی لہر کی 2014 میں تیزاب گردی واقعات سے مماثلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اس دوران جب ایرانی حکام زہر کے معاملے کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس نے ملک کے درجنوں سکولوں اور یونیورسٹیوں کو تقریباً 4 ماہ سے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ وہیں کئی سال قبل پیش آنے والا ایک ایسا ہی معاملہ ذہنوں میں آگیا ہے۔
2014 میں بھی تہران کے جنوب میں واقع شہر اصفہان نے خواتین کے خلاف اسی طرح کے حملوں کی ایک لہر دیکھی۔
اس وقت درجنوں لڑکیوں کو تیزاب کا استعمال کرتے ہوئے حملوں کی لہر کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس وقت ہر اس عورت کو دہشت زدہ کرنا مقصود تھا جو خواتین کے لباس پر عائد سخت قوانین کی خلاف ورزی کرتی تھی۔
ہزاروں ایرانیوں نے دارالحکومت تہران میں پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے اور اصفہان میں سٹی کورٹ کے سامنے خواتین پر تیزاب چھڑکنے کے واقعے کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔ تیزاب گردی کے ان واقعات میں 17 افراد کے چہرے جھلس گئے تھے۔ اس وقت تیزاب گردی کا شکار خواتین میں سے ایک جل جانے کے نتیجے میں مر گئی۔
اس وقت سوشل نیٹ ورکس پر تنقید کی ایک لہر شروع ہوئی تھی جس میں مجرموں کو "ایرانی آئی ایس آئی ایس" قرار دیتے ہوئے ان کے رویے کا عراق اور شام میں داعش کے عناصر کے رویے سے موازنہ کیا گیا تھا۔
خاص طور پر سخت گیر لوگ جو ملک میں اقتدار پر قابض ہیں طویل عرصے سے ان خواتین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو مکمل پردے کی پابندی نہیں کرتی ہیں۔ 2014 میں ان حملوں کی تحقیقات کسی نتیجے پر نہیں پہنچی تھیں اور نہ ہی کسی حملہ آور کو گرفتار کیا گیا تھا۔
اسی منظر نامے کو آج پھر ملک میں دہرایا جا رہا ہے۔ اب استعمال شدہ مواد میں کچھ فرق ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ طالبات نے زہریلی نائٹروجن گیس سانس میں لی تھی۔
تاہم ان دونوں منظر ناموں میں محرکات ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ ان کا مقصد طالبات اور لڑکیوں کو ڈرانا ہے۔ خاص طور پر ستمبر کے وسط میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں خواتین کی بھرپور شرکت کے بعد خواتین میں جابرانہ پابندیوں کے خلاف ایک لہر پیدا ہوئی ہے۔ یہ خواتین لازمی پردے کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
کئی خواتین کارکنوں نے الزام لگایا ہے کہ زہر دینے کے پیچھے حکمران مذہبی اسٹیبلشمنٹ ہے۔ نیویارک میں رہنے والے ایک ممتاز ایرانی کارکن مسیح علی نجاد نے چند روز قبل ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ ایران میں لڑکیاں اب جبری پردے کے خلاف لڑنے کی قیمت زہر کا نشانہ بن کر چکا رہی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزارت داخلہ نے معاملے کو نرم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ تحقیقات میں جن طلبہ کا معائنہ کیا گیا ان میں کسی زہریلے یا خطرناک مادے کی موجودگی کا انکشاف نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 90 فیصد شکایات کلاس رومز میں پائے جانے والے اضطراب اور خوف کی وجہ سے تھیں۔ صرف طلبہ کی محدود تعداد نے پیچیدگیاں محسوس کی ہیں۔

Advertisement

واضح رہے کہ گزشتہ نومبر سے زہریلی گیس کی یہ لہرقُم شہر سے شروع ہوئی تھی جہاں تقریباً 800 طالبات زہریلی گیس کے سانس لینے کے نتیجے میں تھکاوٹ، آنتوں میں درد اور بے ہوشی کے واقعات میں مبتلا ہوگئی تھیں۔ اس کے بعد مختلف خطوں میں سینکڑوں سکولوں میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں