سعودی عرب کے زلفی نیشنل پارک میں کئی ریم ہرنوں کو چھوڑ دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف ڈویلپمنٹ نے نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور اور کامبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن کے تعاون سے الزلفی نیشنل پارک میں متعدد الریم ہرنوں کو چھوڑا ہے ۔ یہ اقدام دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کے پروگراموں کے حصے کے طور پر خطے میں حیاتیاتی تنوع کو فروغ دینے، ماحولیاتی توازن کی بحالی اور ماحولیاتی پائیداری کے تصور کو مستحکم کرنے کے تناظر میں کیا گیا۔

32
32

یہ اقدام جنگلی حیات کے عالمی دن کے موقع پر مرکز کی طرف سے منعقد کی جانے والی سرگرمیوں کے ساتھ انجام دیا گیا۔ اس آغاز کے تحت خطرے سے دوچار جنگلی انواع کے پھیلاؤں اور انہیں قومی پارکوں اور قدرتی ذخائر میں دوبارہ آباد کرنے اور اور سعودی عرب میں حیاتیاتی تنوع کو تقویت دینے کی کوششوں کی ہی ایک توسیع ہے۔

نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف ڈویلپمنٹ کے سی ای او ڈاکٹر محمد قربان نے کہا ہے کہ قومی پارکوں میں لانچ کا مقصد ان پارکوں کی کشش کو بڑھانا ہے۔ حالیہ اقدام بھی مرکز کے کام کا تسلسل ہے تاکہ ترقی کے قومی منصوبوں کو تیار کیا جائے اور ان پر عمل کیا جائے۔ نظام کے ماحولیاتی توازن کو بحال کرنے کے لیے شراکت داروں کے تعاون سے معدومیت کے خطرے سے دوچار جنگلی حیات کے تحفظ کی عالمی کوششوں سے ہم آہنگ ہوکر کام کیا جا رہا ہے۔

33
33

ڈاکٹر محمد قربان نے کہا کہ " سعودی گرین” کے اقدامات اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے قومی حکمت عملی کے نفاذ میں جنگلی حیات کا تحفظ بھی شامل ہے ۔ یہ سارے منصوبے سعودی عرب کے ’’ ویژن 2030‘‘ کے اہداف کو حاصل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا اس مرکز کے پاس عالمی مراکز میں سب سے آگے رہنے والے سنٹرز ہیں جو خطرے سے دوچار جانوروں کی افزائش اور انہیں ان کے قدرتی ماحول میں انتہائی درست بین الاقوامی معیارات کے مطابق آباد کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں