مغربی کنارے میں فلسطینی اساتذہ نے ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کردیا

فلسطینی حکومت کی جانب سے 5 فیصد الاؤنس دینے کو مسترد کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مغربی کنارے میں اساتذہ کے نمائندوں نے پیر کو تنخواہوں ، رہائش کے اخراجات کے الاؤنس کی ادائی کے لیے ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔ اساتذہ نے ہڑتال ختم کرنے کے لیے فلسطینی حکومت کی پیش کو مسترد کردیا۔ فلسطینی اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ انہیں 5 فیصد بونس دیا جائے گا۔

پیر کے روز ہڑتال کی ہدایت سوشل میڈیا پر شائع ہونے والے بیانات کے ذریعے کی گئی جس میں ہڑتال کا اعلان قیادت کے بغیر کیا گیا۔ جنرل یونین آف ٹیچرز منگل سے ایک جامع ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

وزیر اعظم محمد اشتیہ نے پیر کے روز رام اللہ میں ہفتہ وار حکومتی اجلاس کے دوران اعلان کیا کہ کام کی نوعیت کا بونس اساتذہ کو پانچ فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔ انجینئرز اور صحت کے پیشوں میں کام کرنے والوں کے لیے بھی بونس یہی ہوگا۔ انہوں نے کہا یہ اقدام مسلسل مالیاتی ناکہ بندی کے باوجود اپنے لوگوں کی استقامت اور تعلیمی، طبی، پیشہ ورانہ اور سیکورٹی کی پیش رفت کو مضبوط کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔

اساتذہ کی جنرل یونین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے ان باتوں پر عمل نہیں کیا جن پر پہلے اتفاق ہو چکا تھا۔ اس لیے ہم کھلی ہڑتال کا اعلان کرتے ہیں جس میں مغربی کنارے، القدس ، ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ اور وزارت تعلیم کی عمارت کے سکولوں میں کام نہیں کیا جائے گا۔

مغربی کنارے کے سرکاری سکولوں میں تقریباً 38,000 اساتذہ کام کر رہے ہیں جنہیں ایک سال سے زائد عرصے سے پوری تنخواہیں نہیں ملی ہیں کیونکہ فلسطینی حکومت عرب اور بین الاقوامی تعلیمی اداروں کی مالی امداد کے حجم میں کمی کے نتیجے میں مالی بحران سے دوچار ہے۔

وزارت تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق تعلیمی قابلیت اور تجربے کے مطابق سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی اوسط تنخواہ 2600 سے 5000 شکیل کے درمیان ہے۔ طلبہ کے والدین کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کو سرکاری سکول میں بھیجنے سے گریزاں ہے کہ وہاں کا تعلیمی معیار ناقص ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں