یہودی آباد کاروں کی حرم قدسی پر دھاوا بولنے کی اپیل خطرناک ہے: فلسطین

اس سے پہلے کے دیر ہوجائے عالمی برادری اور امریکہ مداخلت کرے اسرائیلی حملوں کو روکیں: فلسطینی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

فلسطین کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز انتہا پسند یہودی تنظیموں کی طرف سے ’’عید پوریم‘‘ کے موقع پر الحرم القدسی میں بڑے پیمانے پر دھاوا بولنے کی اپیل سے خبردار کیا ہے۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہودی آباد کاروں سے دراندازی کی اپیلیں کرنا خطرناک ہے۔ اسرائیلی حکومت ان دراندازیوں کی مکمل اور براہ راست ذمہ دار ہے۔ اسرائیلی حکومت کا موجودہ طرزعمل عقبہ مفاہمت کو ختم کرنے کی کوشش دکھائی دے رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس سے پہلے کے دیر ہو جائے حرم قدسی میں اسرائیلی دراندازی کو روکنے کے لیے عالمی برادری اور امریکہ مداخلت کریں۔

پیر کے روز آباد کاروں نے مغربی کنارے کے شہر نابلس کے جنوب میں واقع قصبے حوارہ کے رہائشیوں اور دکانوں پر حملہ کیا تھا۔ اس علاقے میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں کے درمیان یہودی آباد کاروں نے یہ حملہ کیا۔

یہودی انتہا پسند آباد کاروں نے فلسطینیوں کی گاڑیوں اور گھروں پر فائرنگ اور پتھراؤ کیا۔ فلسطینی ہلال احمر نے تصدیق کی ہے کہ حوارہ میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں کے دوران 6 فلسطینی زخمی ہوئے جنہیں قریبی ہسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں منتقل کر دیا گیا۔ مزید برآں حوارہ میں آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی گاڑی پر حملے کے نتیجے میں 4 شہری زخمی ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں