مصرمیں شراکت داری مشرقِ اوسط میں امریکاکی حکمتِ عملی کا لازمی ستون ہے:آسٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر کے ساتھ امریکا کی دفاعی شراکت داری مشرقِ اوسط کے لیے واشنگٹن کے عزم کا ایک لازمی ستون' ہے۔

یہ بات امریکی وزیردفاع لائیڈ آسٹن نے بدھ کے روزٹویٹر پرجاری کردہ ایک بیان میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا اورمصر کے درمیان دفاعی شراکت داری خطے کے لیے ہمارے عزم کا ایک اہم ستون ہے۔

انھوں نے قاہرہ میں آمد پرکہا کہ میں یہاں اہم امور پر اپنے تعاون کو مضبوط بنانے اور مصر کے ساتھ اپنی دیرینہ دوطرفہ شراکت داری کو گہرا کرنے کے مواقع تلاش کرنے کے لیے آیا ہوں۔

وہ مشرقِ اوسط کے دورے کے آخری مرحلے میں مصری دارالحکومت پہنچے ہیں۔ قاہرہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مصرکے اعلیٰ فوجی حکام نے ان کا استقبال کیا۔

وہ مصر کے صدرعبدالفتاح السیسی اور دیگر اعلیٰ حکام سے بات چیت کرنے والے تھے۔اس کے بعد انھیں اسرائیل کے دورے پرجانا تھا۔انھوں نے اس سے پہلے اردن اور عراق کا دورہ کیا ہے۔

مصر مشرقِ اوسط میں امریکا سے سب سے زیادہ اقتصادی اور فوجی امداد حاصل کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے اور خطے میں امریکا کا مستقل اتحادی ہے لیکن حالیہ برسوں میں امریکی قانون سازوں نے اس امداد کو انسانی حقوق کی بہتری اور اصلاحات سے مشروط کرنے کی کوشش کی ہے۔

مصر نے حالیہ برسوں میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی کے متعدد معاہدوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔آسٹن کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جارحانہ کارروائیاں جاری ہیں اور تشدد میں کئی سال کے بعد نمایاں اضافہ ہواہے۔

امریکا اور مصر دونوں اس وقت ہمسایہ ممالک لیبیا اور سوڈان میں سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے بین الجماعتی مذاکرات میں بھی کردار ادا کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں