اٹلی کے نائب وزیراعظم نے یروشلم کواسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کی حمایت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ اٹلی سے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ کریں گے جبکہ اٹلی کے نائب وزیراعظم ماتیوسالوینی نے فوری طورپراس مطالبے کی حمایت کردی ہے۔

نیتن یاہوجمعرات کو تین روزہ دورے پر اٹلی پہنچ رہے ہیں۔وہ جمعہ کو اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی سے ملاقات کریں گے۔

دورے پر روانہ ہونے سے قبل نیتن یاہو نے اطالوی اخبار'لاریپبلکا' کو دیے گئے ایک انٹرویومیں کہا کہ ’’میراماننا ہے،اب وقت آگیا ہے کہ روم یروشلم کو یہود کا آبائی دارالحکومت تسلیم کرے جیسا کہ امریکانے عظیم دوستی کے اظہاریے کے طورپرکیا تھا‘‘۔

اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا تین ہزار سال قدیم دائمی دارالحکومت قراردیتا ہے لیکن زیادہ ترممالک اسے تسلیم نہیں کرتے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اس کی حیثیت اسرائیل فلسطین تنازع کے پائیدارحل تک متنازع ہے۔

اٹلی کی دائیں بازوکی حکمراں جماعت لیگ کی قیادت کرنے والے سالوینی نے فوری طورپرنیتن یاہو کے مطالبے کی حمایت کی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’’میں امن، تاریخ اور سچائی کے نام پر یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پرہاں کہتا ہوں‘‘۔

گذشتہ سال اگست میں وزیر اعظم بننے سے قبل جارجیامیلونی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کا اطالوی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کاکوئی ارادہ نہیں اوروہ اس ضمن میں امریکا کے فیصلے کی تقلید کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہیں۔

میلونی نے کہا:’’یہ ایک سفارتی معاملہ ہے اور وزارت خارجہ کے ساتھ مل کر اس کا جائزہ لیا جانا چاہیے‘‘۔

یادرہے کہ اسرائیلی پارلیمان نے 1980 میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قراردیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ مشرقی یروشلم کو مقبوضہ اورشہر کی حیثیت کو اس وقت تک متنازع قراردیتی ہے جب تک اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے حل نہیں ہو جاتا۔فلسطینی مشرقی یروشلم کو مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں